اسرائیل:ہفتہ 27 جولائی کو اسرائیلی زیر قبضہ گولان کی پہاڑیوں کے علاقے مجدل شمس میں راکٹ حملے میں 12 اسرائیلی ہلاک ہونے کے بعد لبنان کی حزب اللہ نے اس حملے میں ملوث ہونے کی تردید کردی ہے تاہم اسرائیل میں منظر نامہ جوں کا توں ہے اور صہیونی حکام اس حملے کا ذمہ دار بدستور حزب اللہ کو ٹھہرا رہے اور اسے بھاری قیمت چکانے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔
اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ نے زور دے کر کہا کہ پارٹی ’’ حزب اللہ‘‘ حملے کی ذمہ دار ہے اور اسے اس کی قیمت چکانا ہوگی۔ انہوں نے اتوار کو مجدل شمس میں حملے کے مقام کا دورہ کیا اور تصدیق کی کہ تمام اشارے اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ یہ حملہ حزب اللہ نے کیا تھا۔ پھر انہوں نے حملے میں استعمال ہونے والے راکٹ کی خصوصیات کا ذکر کیا۔
اسرائیلی وزارت خارجہ نے بھی اتوار کو ایک بیان میں مجدل شمس کے حملے کے لیے حزب اللہ کو یقینی طور پر ذمہ دار قرار دیا۔ اسرائیلی آرمی چیف آف اسٹاف ہرزی ہیلیوی نے اتوار کو شمال میں جنگ کے اگلے مرحلے میں داخلے ہونے کا اعلان کردیا۔ ہرزی ہیلوی نے حملے کے مقام کا دورہ کے دوران مزید کہا کہ ان کی افواج شمال میں لڑائی کے اگلے مرحلے کے لیے اپنی تیاریوں میں اضافہ کر رہی ہیں۔ وہ بالکل جانتے ہیں کہ مجدل شمس پر راکٹ کہاں سے فائر کیا گیا تھا۔












