منہاج احمد
نئی دہلی 9نومبر،سماج نیوز سروس:دیوالی سے پہلے ہی دہلی میں ہوا کا معیار زہریلا ہو گیا ہے اور ایئر کوالٹی انڈیکس 500 کو پار کر گیا ہے۔ دہلی حکومت نے ایئر کوالٹی انڈیکس کو بہتر بنانے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں، جن میں آڈایون کا نفاذ، تعمیرات پر پابندی، ایپ پر مبنی ٹیکسیوں پر پابندی شامل ہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق ابھی بارش کا کوئی امکان نہیں ہے اور ہوا کی رفتار کم ہونے کی وجہ سے دہلی حکومت اسموگ کو دور کرنے کے لیے مصنوعی بارش کا منصوبہ سپریم کورٹ کے سامنے پیش کرے گی۔چار دن پہلے دہلی میں آلودگی کی سطح اشوک وہار علاقے میں 999 ریکارڈ کی گئی تھی۔ اگرچہ آج کچھ راحت ملی ہے، لیکن قریبی ریاستوں میں پرالی جلانے اور دیوالی کے موقع پر پٹاخے پھوڑنے کی وجہ سے اس کے دوبارہ بڑھنے کے امکانات ہیں۔ا سموگ کے باعث لوگوں کو سانس لینے میں دشواری، آنکھوں میں جلن، گلے میں خراش یا سوجن اور سردی کا سامنا ہے۔آلودگی سے بچے اور بوڑھے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ اس کو مدنظر رکھتے ہوئے دہلی حکومت نے 18 نومبر تک چھٹی کا اعلان کیا ہے، تاکہ بچے گھر پر رہیں اور بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں۔ ایسے باریک ذرات ہوا میں تحلیل ہو رہے ہیں، جو سانس لیتے ہی ہمارے جسم میں داخل ہو رہے ہیں اور دہلی-این سی آر کے لوگوں کی اس بڑھتی ہوئی آلودگی کی وجہ سے آنکھیں سرخ اور پھیپھڑے کالے ہو رہے ہیں۔ اس کی پانچ بڑی وجوہات ہیں۔پہلا، فضا میں موجود دھول اور مٹی،دوسرا پٹرول اور ڈیزل گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں،تیسرا، تعمیر کی وجہ سے ہوا میں تحلیل مٹی اور دھول،چوتھا بھوسے کو جلانے کے بعد اس سے دھواں نکلتا ہے۔پانچواں فیکٹریوں سے نکلنے والا دھواں۔اگر ہم دہلی-این سی آر میں آلودگی کو روکنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس مسئلے کا حل تلاش کرنا پڑے گا، لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ ہمارے پاس ایسا کوئی نظام نہیں ہے جو اسے کنٹرول کر سکے۔بڑھتی ہوئی آلودگی کی وجہ سے دہلی کے سب سے بڑے اسپتال لوک نائک جئے پرکاش میں مریضوں کی بڑی بھیڑ دیکھی جا سکتی ہے، جس میں زیادہ تر معاملات سانس لینے میں دشواری یا گلے میں خراش سے متعلق ہیں۔ دمہ کے مریضوں اور بچوں کو سب سے زیادہ پریشانی کا سامنا ہے۔ اسپتال انتظامیہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ آلودگی میں اضافے کے بعد او پی ڈی میں 15 سے 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ہی آلودگی کو دیکھتے ہوئے دہلی کے کئی اسپتالوں نے نئی او پی ڈی بھی تیار کی ہیں، جس میں آر ایل ایم ہر پیر کو آلودگی کی وجہ سے مسائل کا شکار مریضوں کا علاج کرتے ہیں۔اس آلودگی کے پیش نظر ڈاکٹروں نے بزرگوں اور بچوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ گھر سے بالکل ضروری ہونے پر ہی باہر نکلیں۔ دہلی ایمس کے سابق ڈائریکٹر ڈاکٹر رندیپ گلیریا کا کہنا ہے کہ آلودگی ان لوگوں کے لیے بھی بہت خطرناک ہے جنہیں کوئی بیماری نہیں ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی اور آلودگی کے کاک ٹیل نے اس میں مزید اضافہ کیا ہے۔ آلودگی کی وجہ سے لوگ جو زہریلی سانس لے رہے ہیں وہ پہلے پھیپھڑوں میں، پھر خون میں اور وہاں سے جسم کے دیگر حصوں میں جائے گی، جس کی وجہ سے ہر عضو متاثر ہوتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ دہلی میں کھانسی اور زکام کے معاملات میں اضافہ ہوا ہے۔رندیپ گلیریا کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کی وجہ سے سانس لینے میں دشواری، کھانسی اور نزلہ زکام کے کیسز میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ یہ تمام بیماریاں اتنے عرصے سے چلی آ رہی ہیں کہ عام دوائیں بھی کام نہیں کر رہیں۔ ادویات لینے کے بعد بھی بعض مریضوں کو اسپتالوں میں داخل ہونا پڑتا ہے۔ دل کے مسائل اور قوت مدافعت والے افراد بغیر ماسک کے گھر سے باہر نہ نکلیں۔












