صنعاء (ہ س)۔العربیہ کے ذرائع کے مطابق جمعرات کی شب یمن میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر امریکی فضائی حملے دوبارہ شروع ہو گئے۔ ذرائع نے بتایا کہ امریکی طیاروں نے المحویت کے علاقے ملحان میں واقع حوثیوں کے ایک تربیتی کیمپ کو نشانہ بنایا۔ذرائع کے مطابق صنعاء کے علاقے براش میں بھی ایک فوجی کیمپ پر امریکی حملہ کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں حوثیوں کے فضائی دفاع کے ماہرین اور اعلیٰ قیادت کے افراد ہلاک یا زخمی ہوئے۔العربیہ کے ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکی حملوں کا دائرہ عمران صوبے تک پھیل گیا اور وہاں بھی حوثی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔اسی طرح المحویت کے مختلف علاقوں میں بھی امریکی جنگی طیاروں نے حوثیوں کے ٹھکانوں پر بم باری کی۔حوثی میڈیا نے بھی تصدیق کی ہے کہ امریکی حملوں نے عَصِر، ہَمدان اور جبل عطان (جو صنعاء کے مغرب میں واقع ہے) کے علاقوں میں موجود ملیشیا کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔اس سے قبل جمعرات کو العربیہ کے ذرائع نے بتایا تھا کہ امریکی طیاروں نے صعدہ کے اطراف میں واقع حوثیوں کے اسلحہ کے گوداموں پر 5 حملے کیے۔اس کے علاوہ، الحدیدہ صوبے کے ضلع الحوک میں بھی حوثیوں کے ٹھکانوں پر امریکی فضائی کارروائی کی گئی۔ذرائع نے بتایا کہ یہ حملے یمن کے چار مختلف صوبوں میں کیے گئے۔دو روز قبل حوثیوں کے خلاف امریکی فضائی مہم کے 46 ویں دن، امریکی طیاروں نے یمن کے چھ صوبوں میں موجود حوثیوں کے زیر انتظام میزائل لانچنگ پلیٹ فارمز، اسلحہ کے ذخائر اور فوجی ٹھکانوں پر 49 فضائی حملے کیے۔اسی دوران، برطانیہ کی وزارتِ دفاع نے بدھ کے روز اپنے بیان میں کہا کہ برطانوی اور امریکی افواج نے منگل کو یمن میں مشترکہ فوجی کارروائی کی۔ بیان میں بتایا گیا کہ حملہ رات کے وقت کیا گیا تاکہ علاقے میں شہریوں کی موجودگی کا امکان کم ہو، اور برطانوی طیارے کامیابی سے واپس لوٹ آئے۔یاد رہے کہ سات اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے بعد اسرائیل اور غزہ کے درمیان جنگ چھڑنے کے بعد سے … حوثیوں نے بحیرہ احمر میں درجنوں بحری جہازوں پر حملے کیے، جنھیں وہ اسرائیل سے منسلک قرار دیتے ہیں۔ان حملوں کو روکنے کے لیے امریکا نے 15 مارچ 2025 سے یمن میں حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائیاں شروع کیں، تاکہ بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں تجارتی جہازوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔












