صنعاء (ہ س)۔یمن میں حوثی ملیشیا نے پیر کے روز اعلان کیا کہ انھوں نے اسرائیل میں ایک فوجی ٹھکانے کو نشانہ بنایا اور بحیرہ احمر میں امریکی بحریہ کے دو جنگی جہازوں پر حملہ کیا۔ اس سے قبل اسرائیلی فوج نے اعلان کیا تھا کہ مشرق کی سمت سے آنے والے ایک ڈرون طیارے کو مار گرایا گیا۔حوثی ملیشیا کے عسکری ترجمان یحیی سریع نے ایک وڈیو بیان میں بتایا کہ "ایک ڈرون طیارے کے ذریعے اسرائیل کے علاقے یافا میں دشمن کے ایک عسکری ہدف کو نشانہ بنایا گیا”۔ترجمان نے مزید بتایا کہ "بحیرہ احمر میں امریکی بحریہ کے دو جنگی جہازوں کو کئی کروز میزائلوں اور ڈرون طیاروں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا”۔اس سے قبل پیر کے روز اسرائیلی فوج نے بتایا تھا اس نے مشرق کی سمت سے آنے والے ایک ڈرون طیارے کو اپنی اراضی میں داخل ہونے سے پہلے ہی فضا میں روک دیا۔یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے زیر کنٹرول علاقوں پر 15 مارچ سے تقریبا روزانہ کی بنیاد پر امریکی فضائی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ حملوں کا مقصد حوثی ملیشیا کو مجبور کرنا ہے کہ وہ اسرائیل سے وابستہ ہونے کا الزام لگا کر بحری جہازوں کو نشانہ بنانا روک دے۔حوثیوں کا کہنا ہے کہ وہ غزہ میں فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کے واسطے امریکی جنگی جہازوں اور اسرائیل کو حملوں کا نشانہ بنا رہے ہیں۔سات اکتوبر 2023 کو غزہ میں جنگ چھڑنے کے بعد حوثیوں نے بحیرہ احمر اور خلیجِ عدن میں بحری جہازوں اور اسی طرح اسرائیلی اراضی کو نشانہ بنانا شروع کر دیا تھا۔ غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے بعد حملوں کو روک دیا گیا تھا۔












