تمیم ثناء اللہ تیمی
اکثر نیافارغ چاہے جس مرحلے کا ہو فراغت کے بعد بڑا ڈپریشن کا شکار اور عجیب و غریب کیفیت سے دوچار رہتا ہے کہاں جاؤں ؟کیا کروں؟ مدارس کا رخ کروں یا نہ کروں؟ مختلف قسم کے سوالات ان کے ذہنوں میں گردش کرتے رہتے ہیں
جب سوالوں کے جوابات ملنا مشکل ہوجاتا ہے تو زیادہ تر نئے فارغین یہی سوچتے ہیں کہ چلو اب چند سالوں تک خارجی ممالک ( سعودی عرب ،قطر،کویت،دبئ ،بحرین،جزائر وغیرہ ) کا سفر کرکے چند سالوں میں کچھ کما لیتےہیں اس کے بعد تو دین کی خدمت یا درس و تدریس کا فریضہ انجام دےہی لیں گے یا دینا ہی دینا ہے
اسی فکر کے ساتھ فراغت کے فورا بعد ہر شخص کسی نہ ملک میں جاکر کوئی مندوب تو کوئی ،ٹاپنگ سینٹر تو کوئی کمپنی میں ملازم ہوجاتا ہے تو کوئی بحیثیت مترجم اور کوئی بحیثیت داعی کام کرنا شروع کردیتا ہے اورکم وقت میں ایک الگ دنیا بسانے کی پوری کوشش کرتاہے
ہر شخص اپنی اپنی صلاحیت کے مطابق کوئی قلیل تو کوئی طویل مدت کے بعد ترقی کرہی لیتا ہے کیونکہ تنخواہ اچھی ہوتی ہے اور مدارس وجامعات سے کئی گنا زیادہ اچھی ہوتی ہے گزرتے ایام کے ساتھ ہر چیز کی فراوانی ہوجاتی ہے انسانی فطرت ہے کہ پیسے آنے کے بعد فکری طاقت میں بھی پروان چڑھنے لگتی ہے
اب آدمی کی خواہشیں ،اچھلتے مچلتے جذبات ان کے دلوں میں انگڑائیاں لینے لگتے ہیں کیونکہ مالی اعتبار سے بہت مضبوط ہونے کے ساتھ ساتھ فکری طاقت سے بھی لیس ہوجاتا ہے اب سوچتا ہے پردیس آئے ہیں تو گھر، زمین وجائیداد ،کچھ پونجی اکھٹا کرلیتےہیں
اسکے بعد اپنے ملک میں دین کی خدمت کرنے چلے جائیں بہر حال گھر ،زمین وجائداد ،گاڑی یعنی ہر طرح کی خواہشیں اور خوشیاں سمیٹنے کی کوشش کرتا رہتا ہے
آدمی انہیں خواہشات کی تکمیل میں زندگی کی تقریبا چالیس، پچاس ،پچپن سال پردیس ہی میں گزار دیتا ہے ،اب جسمانی طاقت کمزور ہونےکے ساتھ ساتھ،دماغی توازن بھی بگڑنے لگتا ہے
یاد داشت ساتھ نہیں دیتی ،ساری علمی صلاحیت کمزور ہوجاتی ہے یعنی ہر اعتبار سے مولانا صاحب کمزور ہوجاتا ہے عمر کے آخری مرحلے میں سوچتا ہے چلو اب گھر کا رخ کر لیتے ہیں اب یہاں رہنا کسی بھی طور پر مناسب نہیں۔
گھر آتے ہیں چند دنوں کے بعد دیکھتے ہیں کہ گھریلو حالات اتنے اچھے نہیں، بال بچے بگڑ چکےہیں کیونکہ باپ کے بغیر اس کی صحیح تعلیم و تربیت نہیں ہوپائی ہے، ادھر بیوی نافرمان ہوچکی ہے ،سماج والے کوئی اہمیتِ نہیں دیتے ،کوئی خدمت کرنے کو تیار نہیں ،بہو چاہتی ہے بڈھا جتنا جلد مرجائے اسی میں عافیت ہے کیونکہ مولانا صاحب کی عمر ( تخمینا ،)وہی دس بارہ سال بچی ہوتی ہے
اب سوچتے ہیں چلوکسی مدرسے کا رخ کرتے ہیں ،بڑی مشکل سے جگہ مل جاتی ہے بحثیت مدرس اپنا فریضہ انجام دینے کی پوری کوشش کرتے ہیں لیکن چند مہینوں بعد بچے اپنی اپنی شکایتیں مدیر تعلیم کے آفس میں درج کروا دیتے ہیں کہ مولانا صاحب فعل لازم کی مثال پوچھنے پر متعدی کی دیتے ہیں ،اور متعدی کی پوچھنے پر تو فعل لازم کی،
تینوں افعال میں فرق نہیں کرپاتے ،جب اردو پڑھاتے ہیں تو عمر اور عمرو میں تمیز نہیں کرپاتے ،نہ حروف ناصبہ یاد ہے اور ناہی افعال ناقصہ کا اعراب ،فعل ،فاعل اورمفعول کی تعریف اور ترکیب تک بھول چکے ہیں یاد داشت اس قدر کمزور ہوچکی ہوتی ہے کہ نماز فجر بجائے دو رکعت کہ تین پڑھا ڈالتے ہیں
اب مولانا صاحب۔ ذہنی اور جسمانی ہر اعتبار سے مزید پریشان ہوجاتے ہیں گھر والے ، بیوی ،بال بچے ،بہو اور رشتے دار مرنے کی تمنا کرنے لگتے ہیں اور مدارس کے ذمہ داران اور بچے چاہتے ہیں کہ جتنا جلد ہو یہ یہاں سے چلے جائیں ،سماج والے امام بنانے کو بھی تیار نہیں
ایک مردہ لاش کی طرح زندگی بسر ہونے لگتی ہے پہلے سے مزید پریشانیاں بڑھ جاتی ہیں مولانا صاحب ڈپریشن کا شکار ہوجاتے ہیں جن مقاصد کے حصول کے لئے پردیس کا رخ کیا تھا اور جو کچھ حاصل کیا تھا وہ سب بیکار ہوجاتا ہے
جب آرام کا وقت آتا ہے تو یہ ساری پریشانیاں سامنے آجاتی ہیں زندگی کی آخری مرحلے میں نہ وہ جذبہ کام آتاہے،نہ زمین وجائداد اور ناہی محنت سے بنائے گئے گھر ،اور ناہی بال بچے ،رشتےدار کوئی بھی کام نہیں آتا!!
اس ضعیفی میں اگر کوئی چیز کام آتی ہے تو فراغت کے بعد دئے گئے درس و تدریس ،وعظ ونصیحت کی وہ باتیں جسکی آپ سے امیدیں وابستہ تھیں ،مدارس وجامعات کے شاگردان جن کی تعلیم و تربیت کا ذمہ آپ کے کندھوں پر ڈالا گیا تھا، ،پھیلائی گئی اسلامی تعلیمات ،سکھلائے گئے قرآن وحدیث کی وہ نکات جس کی ہر وقت وقت ضرورت پڑتی ہے
اگر آپ ایسا کرتے تو آپ کے شاگردان اولاد بن کر آپ کی خدمت کرتے،سارے لوگ آپ کیلئے دعائیں کرتے ،آپ کی دی ہوئی تعلیم کا سلسلہ تا قیامت چلتا رہتا ،مرجاتےتوعلاقے والےجنازے میں شریک ہوتے ،آپ کے نام کی مجالس منعقد کی جاتیں،ناظم جامعہ آپ کے نام سے ایک مکتبہ کو منسوب کردیتے لیکن جو کرنا وہ کیا نہیں تو اب پچتانے سے کیا فائدہ ؟؟؟
سیرت کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ آدم علیہ السلام سے لیکر آج تک کوئی بھی شخص اس دھرتی کچھ لیکر نہیں گیا ہے آپ بھی یہاں سے کچھ لیکر نہیں جاپائیں گے انبیاء کرام اور صحابہ کی زندگی تو مزید غربت اور تکالیف میں گزری ہے آپ کو یاد ہوگا کہ جن صحابہ کرام کو جنت کی بشارت دی گئی ہے یا ہمارے اسلاف جن کی زندگی کو ہم کھنگالتے رہتے ہیں ان تمام کی زندگی غربت میں بسر ہوئی ہے صبح کھاتے تو شام کیلئے ترستے اور شام کھاتے تو صبح کیلئے اس طرح کی درجنوں واقعات سیرت کی کتابوں میں بھڑے پڑے ہیں آج الحمد لله ہرچیز کی فراوانی ہے کوئی بھی شخص اتنا غریب نہیں ہے کہ دین کی خدمت کرے گا تو بھوکے مرجائے گا
اس لئے ہر نئے فارغین کو چاہئیے کہ فراغت کے بعد اپنے ہی ملک میں کسی ایسے ادارے سے منسلک ہوجائےجہاں درس وتدریس کا فریضہ انجام دے سکے آپ کے علمی اور مالی ترقی کے ساتھ ساتھ ، علاقے میں دعوت وتبلیغ اور بال بچے کی تعلیم و تربیت اچھی طرح ہوپائے گی
والدین کی خدمت بھی کرلے جائیں گے اپنوں کے جنازے اور ہر ایک کی خوشی وغم میں شریک ہوپائیں گے،سوچئے کہ اس سے بڑی دولت اور کیا ہوسکتی ہے اگر کوئی شخص ایسا کرتاہے تو یہ اس کیلئے بہت بڑی دولت اور عظیم کامیابی ہے
موج طوفان سے نکل کر بھی سلامت نہ رہے
نذر ساحل ہوئے دریا کے شناور کتنے
اللہ تعالیٰ ہرنئے متخرج کو اپنے مذہب کے بارے فکر کرنے کی توفیق دے اور اپنے علم سے لوگوں کی پیاس بجھانے کا جذبہ عطاء کرے آمین یا رب العالمین












