لکھنؤ/نئی دہلی،سماج نیوز سروس: عام آدمی پارٹی کے سینئر رہنما اور رکنِ پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے کاشی کے منی کرنیکا گھاٹ معاملے میں وارانسی پولیس کی جانب سے بھیجے گئے نوٹس کا جواب دے دیا ہے۔ سنجے سنگھ نے منی کرنیکا گھاٹ پر تعمیر کے نام پر قدیم اساطیری ورثے، شِولِنگوں اور لوک ماتا دیوی اہلیابائی ہولکر کے مجسمے کو نقصان پہنچائے جانے کی حقیقت سامنے رکھی تھی، جس کے بعد ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ سنجے سنگھ نے اسے جمہوریت اور مذہبی عقیدے پر براہِ راست حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اقتدار کے تحفظ میں کی جانے والی اس بربریت کو بے نقاب کرنے والوں کی آواز دبانے کی سازش کی جا رہی ہے۔ راجیہ سبھا کے رکن سنجے سنگھ نے وارانسی پولیس کے نوٹس کا قانونی جواب دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے ایکس ہینڈل پر جو ویڈیو اور حقائق شیئر کیے ہیں، وہ مکمل طور پر حقیقی ہیں اور موقع پر موجود لوگوں کے بیانات اور براہِ راست شواہد پر مبنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ منی کرنیکا گھاٹ پر واقع منی (چبوترہ)، اس پر کندہ فن پارے، پران پرتِشٹھت شِولِنگ اور لوک ماتا اہلیابائی ہولکر کے مجسمے کو نہایت بے رحمی سے توڑا گیا، جس سے کروڑوں سناتنیوں کے جذبات کو گہرا صدمہ پہنچا ہے۔سنجے سنگھ نے اپنے جواب میں کہا کہ کاشی محض ایک شہر نہیں بلکہ بابا وشوناتھ کی نگری ہے، جہاں ہر اینٹ اور ہر گھاٹ کی اساطیری، تاریخی اور مذہبی اہمیت ہے۔ جس منی کرنیکا گھاٹ کو موکش کی دھرتی مانا جاتا ہے، وہاں قائم شِولِنگ اور وراثتی حیثیت سے محفوظ رکھی جانے والی لوک ماتا اہلیابائی ہولکر کے مجسمے کو توڑنا کسی بھی صورت میں ترقی نہیں ہو سکتا۔












