نئی دہلی ،قرآن مجید ایسی مقدس کتاب ہے جسے اللہ تعالیٰ نے سب سے زیادہ سیدھا راستہ دکھانے اورسب سے صحیح رہنمائی کرنے والی کتاب بنایا ہے ، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت اسلامیہ کووصیت فرمائی کہ قرآن مجید کی تلاوت کا اہتمام کیا کرو کیونکہ یہ قرآن مجید قیامت کے دن ان لوگوں کے حق میں سفارش کرے گا جودنیا میں قرآن مجید کو اپنا اوڑھنا بچھونا بناتے ہیں۔ اللہ رب العالمین نے قرآن مجید کی عظمت کے مدنظر بار بار اس بات کا چیلنج کیا ہے کہ اگر سارے انسان اورسارے جنات جمع ہوکر بھی قرآن مجید جیسی کوئی کتاب یا اس جیسی کوئی آیت بھی پیش کرنا چاہیں تو نہیں کرسکتے ۔ قرآن مجید کی توہین کاسلسلہ آج کا نیا نہیں بلکہ یہ ہمیشہ سے رہا ہے ، مسلمانوں کی ذمہ داری یہ ہے کہ مسلمان ایسے احوال میں دین کی طرف رجوع کرے اور قرآن مجید سے متعلق کیے جانے والے افراط وتفریط سے بچے اور قرآن مجید کا حق ادا کرے۔ان خیالات کا اظہار ابوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ سنٹر، نئی دہلی کے صدر مولانا محمد رحمانی سنابلی مدنی حفظہ اللہ نے سنٹر کی جامع مسجد ابوبکر صدیق ،جوگابائی ،نئی دہلی میں خطبہ جمعہ کے دوران کیا ۔ مولانا ’’قرآن مجید کے حقوق اور ہماری حالت زار‘‘ سے متعلق گفتگو فرمارہے تھے ۔ مولانا نے فرمایا کہ قرآن مجید رشدو ہدایت کی کتاب، اللہ کا نور اوربالکل کھلی اور واضح کتاب ہے ، اللہ تعالیٰ نے سورۂ مائدہ میں اس کا ذکر فرمایا ہے ۔ یہ قرآن مجید آخرت کی کامیابی اورآخرت میں اللہ کی مد د کا ذریعہ ہے اللہ تعالیٰ نے سورۂ طہٰ کی آیت 125اور126میں ارشاد فرمایا کہ جواس کتاب کی مخالفت کرتا ہے اسے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اندھا کرکے اُٹھائے گا اوراس سے کہہ دیا جائے گا کہ جیسے تم اللہ کی آیتوں کوجھٹلاتے تھے اوربھلادیتے رہے ویسے ہم آج تم کو بھلادیں گے ۔ خطیب محترم نے فرمایا کہ قرآن مجیدغور وتدبر کرنے اور جہنم سے نجات حاصل کرنے کی کتاب ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے سورۂ ملک میں کفارکے بارے میں ارشاد فرمایا کہ کفار کہیں گے کہ اگر ہم نے دنیا میں قرآن مجید پر غور وتدبر کرلیا ہوتا تو ہم جہنم والوں میں سے نہ ہوتے اورعمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ایک قوم کوقرآن مجید کا حق ادا کرنے اوراس پر عمل پیرا ہونے کے نتیجہ میں سر بلندی عطا فرماتا ہے اوردوسری قوم کواسے چھوڑنے اور اس کی مخالفت کرنے کی وجہ سے ذلیل وخوار کردیتا ہے۔مولانا رحمانی نے مزید فرمایا کہ قرآن مجید کو چھوڑنے کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ قبر کو انسان کے لیے تنگ کردیتا ہے اورقرآن مجید کو اپنانے والوں کوفتنوں سے محفوظ کردیا جاتا ہے لیکن آج صورت حال یہ ہے کہ ہم نااہل افراد سے علم حاصل کرتے ہیں اور قرآن مجید کی تفسیر کے لیے بہت سے ایسے غیر علماء وواعظین کا انتخاب عام سی بات ہے جوقرآن مجید کے اصول تفسیر سے واقف ہی نہیں ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابۂ کرام کے گہرے علم اور ٹھوس صلاحیت کے باوجود فرمایا تھا کہ قرآن مجید کا علم چار افراد سے حاصل کیا کرو ، یہ تعین اس بات کی دلیل ہے کہ محض صلاحیت کی بنیاد پر ہر کسی سے علم حاصل نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس کے تخصص کا اعتبار ہوگا ورنہ تو علی رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے والا ملجم بھی اتنا بڑا قاری تھا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے لیے مکان بنوایا کہ وہ نونہالوں کوقرآن سکھائے گا لیکن جب وہ خوارج کے افکار سے متاثر ہوا تو نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ اسلام کے چوتھے خلیفہ علی رضی اللہ عنہ کوقتل کرڈالا اورجب اسے قصاص کے طور پر قتل کیا جانے لگا تو اس نے مطالبہ کیا کہ پہلے میری انگلیاں کاٹی جائیں پھر ہاتھ اوراخیر میں سرتاکہ میں سر کے کٹنے تک ذکر واذکار کرسکوں جبکہ اس کی یہ نیکی اس کے لیے مفید نہیں بلکہ وبال جان بن گئی ۔ مولانا نے مزید فرمایا کہ آج خوارج کے طرز پر قرآن مجید کا علم حاصل کرنا تشویش ناک ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ تم خوارج کے آگے اپنی تلاوت اورنمازوں کو حقیر سمجھوگے لیکن خوارج کے حلق سے قرآن مجید کی آیات نہیں اترتی ہیں ۔ مولا نا نے کہا کہ قرآن مجید کوتعویذ گنڈے کے لیے استعمال کرنا ، قبروں پر اس کی تلاوت کا اہتمام کرنا اس کے اندر تحریف اورتوجیہ وتاویل کرنا یا یہ کہنا کہ یہ مشکل کتاب ہے اور اس کی تنقیص کرنا یا اس کی حق تلفی یہ سب افراط وتفریط کی شکلیں ہیں ہمیں ان سے بچنا چاہیے۔اخیرمیں قرآن مجید کا حق ادا کرنے کی اپیل اوردعائیہ کلمات پر خطبہ ختم ہوا۔












