اعجاز ڈار
سرینگر ،سماج نیوز سروس: اگر مرکز اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہتا ہے تو وہ اس کے ساتھ تعلقات پر نظر ثانی کریں گے کی بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ دفعہ370 کی بحالی کی لڑائی سے دستبردار نہیں ہوئے اور اگر ایسا ہوتا تو ہم اسمبلی میں کوئی قرارداد پاس نہ کرتے جس میں جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو بحال کرنے اور آئینی ضمانتوں کو بھی واپس لانے کا مطالبہ کیا جاتا۔انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ مرکز کے ساتھ اچھے کام کرنے والے تعلقات کو برقرار رکھنے کو بی جے پی کے ساتھ اتحاد کے طور پر غلط نہیں سمجھا جانا چاہئے۔ایک خصوصی انٹرو یو میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ اگر مرکز اپنے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہا تو وہ اس کے ساتھ تعلقات پر نظرثانی کریں گے۔ انٹر ویو کے دوران انہوں نے کہا ’’مرکز کے ساتھ اچھے تعلقات کو بی جے پی کے ساتھ اتحاد کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ ایک خوشگوار تعلق قائم رکھنا دوستی یا اتحاد کے مترادف نہیں ہے‘‘۔ترقیاتی امور پر بات کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ انہیں عوام نے خدمت کا مینڈیٹ دیا ہے اور حکومت جموں و کشمیر میں ترقی کو یقینی بنانے پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ دفعہ 370 کی بحالی کی جدوجہد سے دستبردار نہیں ہوئے ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی بی جے پی حکومت کے ساتھ نرم رویہ اختیار کر رہے ہیں، تو انہوں نے کہا’’کم از کم میری حکومت کے ابتدائی چند مہینوں میں، میں جموں و کشمیر کے عوام کا مقروض ہوں کہ میں حکومت ہند کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے کی کوشش کروں۔ اگر مرکز اپنے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہا، تو ہم اس پر نظرثانی کریں گے‘‘۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جب تک نریندر مودی وزیر اعظم ہیں دفعہ 370 کی بحالی ممکن نظر نہیں آتی۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ وہ اس جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹے اور اگر ایسا ہوتا، تو اسمبلی میں جموں و کشمیر کے خصوصی درجہ کی بحالی اور آئینی ضمانتوں کی واپسی کی قرارداد منظور نہ کی جاتی۔ عمر عبداللہ نے یہ بھی کہا کہ مرکز کے ساتھ اچھے تعلقات کو بی جے پی کے ساتھ اتحاد کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ ایک خوشگوار تعلق قائم رکھنا دوستی یا اتحاد کے مترادف نہیں ہے ۔ ترقیاتی امور پر بات کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ انہیں عوام نے خدمت کا مینڈیٹ دیا ہے اور حکومت جموں و کشمیر میں ترقی کو یقینی بنانے پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ایک نئی صنعتی پالیسی اور سیاحت کی پالیسی پر کام کر رہی ہے اور اس حوالے سے وہ ریاست سے باہر سیاحت کے فروغ کے لیے بھی مصروف ہیں۔ پارٹی کے اندر بعض مسائل پر اختلافات اور این سی کے رکن پارلیمنٹ آغا روح اللہ کے الگ مؤقف پر، عمر عبداللہ نے کہا’’میرا ماننا ہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت میں رائے کے اختلاف کی گنجائش ہونی چاہیے، اور جمہوریت میں لوگوں کو ایک بہتر لیڈر منتخب کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے‘‘۔یہ پوچھے جانے پر کہ کیا وہ حکومت ہند کو پاکستان کے ساتھ ورکنگ رشتے قائم کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا’’فی الحال اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور نہ ہی ایسا ہے جس طرح جموں و کشمیر میں سیکورٹی فورسز پر حملے ہوئے ہیں۔ ‘‘












