7 فروری کا دن پارلیمنٹ کی تاریخ کا ایک ایسا دن تھا جب راہل گاندھی نے مودی حکومت کے 9سالہ دور کو محض انگریزی کے تین مصرعوں میں سمیٹ دیا اور اس کا مفہوم یہ تھا کہ
مل کر شروعات ہوئی
مل کر ہی ترقی ہوئی
اور مل کر کام کرنے سے ہی کامیابی ملی
راہل گاندھی کا اشارہ اڈانی اور مودی جی کے گہرے رشتے کی طرف تھا۔راہل گاندھی نے ملک کے لوگوں کو بتا دیا کہ ملک کو وشو گرو بنانے کے نعرے کے پیچھے ،نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے پیچھے ،سب کا ساتھ سب کا وکاس اور سب کا وشواس کے پیچھے ،ملک کو نفرت کی آگ میں جھونکنے کے پیچھے ،تمام اہم سرکاری کمپنیوں کو بیچنے کے پیچھے ،سرکاری ایجنسیوں کے ذریعہ حزب اختلاف کو جیل رسید کرنے کے پیچھے،پیگاسس کے ذریعہ ملک کے تمام اہم لوگوں پر نگاہ رکھنے کے پیچھے ،عدالت عالیہ سے الجھنے کے پیچھے ،غیر ملکی دوروں کے پیچھے،نفرتی بیان بازی کے پیچھے ،ہندو راشٹر بنانے کے پیچھے ،سی اے اے اور این آر سی کے پیچھے،اور اب اڈانی کی کمپنیوں پر ہنڈن برگ کی رپورٹ آ جانے لے باوجود سرکار کی طویل خاموشی کے پیچھے کی سچائی کیا ہے۔
راہل گاندھی نے جس طرح پارلیمنٹ میں نریندر مودی اور اڈانی کے رشتوں پر سے پردہ اٹھایا ہے اس کے بعد سرکار کو اقتدار میں قائم رہنے کا کوئی حق نہیں۔ملک کے لوگوں کو بھی یہ سوچنا چاہئے کہ راہل گاندھی نے جو کچھ کہا کیا اس کی سچائی سے کسی کو انکار ہو سکتا ہے ؟راہل گاندھی کی سات فروری کی تقریر نے متعدد بی جے پی کے لیڈروں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ ان کے پاؤں کے نیچے کی زمین کتنی بھر بھری ہے اور اس سرکار نے اپنے تمام دور اقتدار میں عوام کو صرف دھوکہ دیا ہے اور اسی وجہ سے صدر کی پوری تقریر میں نہ کہیں مہنگائی کا ذکر ہوا اور نہ بے روزگاری کا۔راہل گاندھی نے اپنی تقریر کے دوران پورے ملک کو یہ بتا دیا کہ کس طرح مودی اینڈ کمپنی نے اقتدار سنبھالتے ہی تمام بی جے پی کے ممبران پارلیمنٹ کو اپنے پرانے عملے کو بدلنے کی تاکید کی تاکہ ان پرانے پرسنل سکریٹریز کی جگہ ایسے لوگوں کو رکھا جاسکے جن کا بیک گراؤنڈ سنگھی ہو تاکہ کسی کے بھی بغاوت کا کوئی امکان نہ ہو۔لیکن اس طرح کے چاق وچوبند ،اور ان تمام باریکیوں پر نظر رکھنے والے مودی جی کو اس کا خیال بھی نہ آیا کہ اڈانی کی متعدد کمپنیوں میں جو رقم باہر کی کمپنیاں (شیل کمپنیاں )اپنا پورا کا پورا سرمایہ لگا رہی ہیں ان کمپنیوں کا بیک گراؤنڈ کیا ہے۔وہ کون لوگ ہیں جو اپنی اپنی کمپنیوں کا سارا کا سارا حصص اڈانی کی کمپنیوں کا شیئر خریدنے میں صرف کر رہی ہیں۔ راہل گاندھی کے مطابق یہ اندیکھی جان بوجھ کر کی گئی تاکہ اڈانی کی کمپنی کے ذریعہ بی جے پی کو غیر ملکی فنڈ آسانی سے مل سکے۔راہل گاندھی نے وزیر اعظم سے براہ راست سوال کیا کہ آپ ملک کے لوگوں کے اس سوال کا جواب دیں کہ اڈانی جی کے ساتھ آپ نے کتنے غیر ملکی دورے کئے اور کتنی بار آپ کے دورے کے آس پاس اڈانی جی نے بھی اس ملک کے دورے کر کے ٹھیکے حاصل کئے۔راہل نے سوال کیا کہ گذشتہ بیس برسوں میں اڈانی جی نے بی جے پی کو کتنے پیسے دےئے۔الکٹورل بانڈ کے ذریعہ کتنے پیسے دئے۔ماریشس اور دیگر ممالک کی شیل کمپنیاں کس کی ہیں ؟اور ہزاروں کروڑ روپئے جو ان کمپنیوں کے ذریعہ اڈانی کی کمپنیوں میں دئے گئے وہ پیسے کیسے ہیں ؟اور اس سوال کا جواب اس لئے اہم ہے کہ یہ نیشنل سیکوریٹی سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔
افسوسناک سچائی یہ بھی ہے کہ راہل گاندھی کے ان تمام سوالات کا جواب دینے کی جگہ وزیر اعظم نے ایک طرف ماضی کی طرح حسب معمول اپنی اور اپنے سرکار کی قصیدہ خوانی کی یا پھر کانگریس کے دور اقتدار پر تنقید کی۔وزیر اعظم کی تقریر کے بعد یہ ثابت ہو گیا کہ راہل گاندھی سمیت تمام حزب اختلاف کے سوالات اور عوامی مسائل سے اٹھنے والے سوالات کا وزیر اعظم کے پاس کوئی جواب نہیں۔












