ممبئی، پریس ریلیز،ہمارا سماج:مرین لائن میں واقع اسلام جمخانہ میں بروز منگل، 14 اپریل 2026 کو بعد نمازِ مغرب علمائے کرام اور ائمہ مساجد کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں شہر میں بڑھتے ہوئے منشیات کے کاروبار اور اس سے جڑی گنڈہ گردی پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔اجلاس میں معروف عالم دین حضرت مولانا خالد اشرف صاحب اور ان کے صاحبزادگان پر حالیہ حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی۔ شرکاء نے اس واقعہ کو نہایت افسوسناک قرار دیتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔اس موقع پر مولانا سید معین اشرف عرف معین میاں صاحب نے اپنے خطاب میں کہا کہ منشیات کا بڑھتا ہوا جال پورے شہر کے لیے خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جلد ہی وزیراعلیٰ سے ملاقات کرکے اس سنگین مسئلے پر سخت کارروائی کا مطالبہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ گلی محلوں میں کھلے عام نشہ آور اشیاء کی فروخت ہو رہی ہے، جس پر فوری روک لگانا ضروری ہے۔سینئر قانون داں ایڈوکیٹ یوسف ابرانی نے کہا کہ اس حملے میں ملوث افراد کے خلاف ایسی سخت کارروائی کی جائے کہ آئندہ کوئی اس قسم کی حرکت کرنے کی جرأت نہ کرے۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ایک عالم دین اور امام پر حملہ کیا گیا، جو انتہائی قابلِ مذمت ہے۔کانگریس لیڈر نظام الدین رائن نے کہا کہ اس واقعہ کے بعد عوام میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جمعہ تک پولیس کی جانب سے ٹھوس کارروائی نہ کی گئی تو بڑے پیمانے پر احتجاج کیا جائے گا۔سماجی کارکن مبین قریشی نے اہلِ مدنپورہ کی جانب سے منشیات کے خلاف مشترکہ مہم چلانے کا اعلان کیا اور والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں، جبکہ علمائے کرام سے جمعہ کے خطبات میں اس مسئلے کو اجاگر کرنے کی درخواست کی۔اقبال میمن نے کہا کہ یہ ایک سنگین مسئلہ ہے اور پوری میمن برادری اس جدوجہد میں ساتھ ہے۔ عامر ادریسی نے مطالبہ کیا کہ جمعہ کے روز اس مسئلے کو عوامی سطح پر اٹھایا جائے اور مسلم اراکینِ اسمبلی ایوان میں اس پر آواز بلند کریں۔اجلاس کے اختتام پر حضرت مولانا سید خالد اشرف صاحب نے کہا کہ ان پر اور ان کے بیٹوں پر حملہ یقیناً تشویشناک ہے، مگر اس سے بڑھ کر فکر کی بات یہ ہے کہ قوم کس سمت جا رہی ہے۔












