نئی دہلی،(یواین آئی) کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن کے رہنما راہل گاندھی اور پارٹی کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے ہند-امریکہ تجارتی معاہدے کو لے کر وزیرِ اعظم نریندر مودی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی حکومت نے قومی مفادات کو نظر انداز کر کے یہ معاہدہ کیا ہے۔ مسٹر راہل گاندھی نے کہاکہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔ مودی اتنے خوفزدہ ہیں کہ وہ مجھے پارلیمنٹ میں نروانے معاملے، ایپسٹین اسکینڈل اور امریکہ-ہند تجارتی معاہدے پر ان کے سرنڈر کے بارے میں بولنے نہیں دے رہے ہیں۔” محترمہ پرینکا واڈرا نے کہاکہ امریکہ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ امریکی کسانوں کی مصنوعات اب ہندوستانی بازار میں فروخت ہوں گی جس سے دیہی امریکہ میں پیسہ آئے گا۔ اس ڈیل سے صدر ٹرمپ نے امریکی کسانوں کے لیے فائدہ یقینی بنایا ہے۔ ہندوستان کے کروڑوں کسان جاننا چاہتے ہیں کہ اس تجارتی معاہدے کی شرائط کیا ہیں۔ کیا مودی حکومت ہندوستانی زرعی شعبے کو مکمل طور پر امریکہ کے لیے کھولنے جا رہی ہے؟ کیا حکومت ہندوستانی کسانوں کو امریکی کمپنیوں کے ساتھ براہِ راست مقابلے میں ڈالے گی؟ کیا ہمارے کسانوں کے مفادات سے سمجھوتہ کیا گیا ہے؟ عوام کے سامنے فوری طور پر صورتحال واضح کی جانی چاہیے۔”












