نئی دہلی 16اپریل اتر پردیش کے سابق ممبر پارلیامنٹ عتیق احمد اور ان کے بھائی اشرف کو 15 اپریل یعنی سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب پریاگ راج میں تین لوگوں نے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔واردات کے وقت پولیس عتیق احمد اور ان کے بھائی اشرف کو روٹین میڈیکل چیک اپ کے لیے ہسپتال لے جا رہی تھی کہ یکایک ہسپتال کے صدر دروازہ سے چند قدم پہلے میڈیا والوں نے عتیق

احمد اور ان کے بھائی کو روک کر ان سے سوالات کرنے لگے اور وہ باضابطہ کیمرہ پر اس طرح اپنا بیان دینے لگے جیسے گینگسٹر نہیں کوئی عوامی قائد ہو۔اور عین اسی وقت تین لوگوں نے جو کسی چینل کا آئی ڈی لئے ہوئے تھے نے پہلے عتیق کی کنپٹی پر ریوالور رکھ کر اس کا بھیجہ اڑا دیا اور پھر تینوں کی اندھادھند فائرنگ میں عتیق اور اشرف دونوں جو ایک ہی ہتھکڑی سے منسلک تھے ڈھیر ہو گئے ۔ واضح ہو کہ عتیق احمد اور اشرف سابق ایم ایل اے راجو پال کے قتل کے سلسلے میں جیل میں تھے۔ انھیں راجو پال قتل کے گواہ امیش پال کے قتل کے معاملے میں پوچھ گچھ کے لیے سابرمتی جیل سے پریاگ راج لایا گیا تھا۔
گذشتہ ماہ سپریم کورٹ نے ان کی اس درخواست پر سماعت کرنے سے انکار کر دیا تھا جس میں انھوں نے الزام لگایا تھا کہ پولیس سے ان کی جان کو خطرہ ہے۔اتر پردیش میں بی جے پی کی حکومت ہے اور حزب اختلاف کی جماعتوں نے ان ہلاکتوں کو سکیورٹی کی خامی قرار دیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔دہلی میں مقیم سپریم کورٹ کے معروف وکیل زیڈ کے فیضان صاحب سے جب میں نے ان کے تاثرات جاننے چاہے تو انہوں نے اسے کولڈ بلڈڈ مرڈر قرار دیا اور کہا کہ یہ سب کچھ کسی سیاسی حکمت عملی کے تحت کیا گیا معاملہ لگتا ہے ۔اور الہ آباد ہائی کورٹ کو اس سلسلے میں سوواموٹو ایکشن لینا چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ سابق ممبر پارلیمنٹ عتیق احمد اور ان کے بھائی اشرف کے قتل کی خبر چونکانے والی ہے ۔اتنے سخت پہرے میں جس طرح اس قتل کی سازش کو انجام دیا گیا ہے وہ اس بات کو ثابت کرتا ہےکہ صوبے میں امن و قانون کی صورت حال اپنی بدترین سطح پر پہنچ چکی ہے ۔مجھے اس خبر کو سن کر زرا بھی تعجب نہیں ہوا کیونکہ یہ اس فرقہ وارانہ منافرت کانتیجہ ہے جو یوگی اور ان کی ٹولی نے پیدا کردی ہے ۔صوبائی حکومت کو اس کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مستعفی ہو جانا چاہئے بصورت دگر صدر جمہوریہ کو چاہئےکہ وہ ایسی حکومت کو برخواست کر دے ۔
عتیق اور اشرف قتل معاملے پر دہلی کے معروف سوشل ایکٹیوسٹ اور آل انڈیا مجلس مشاورت کے سابق صدر نوید حامد نے اس بہیمانہ قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ ماہ سپریم کورٹ کے ذریعہ عتیق احمد کی حفاظت کی استدعا کو ٹرن ڈاؤن کرنے اور اتر پردیش کے وزیر اعلی کے مٹی میں ملا دینے کے بیان کو نہیں بھولنا چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی کے ذریعہ قائم کردہ انکوائری کمیٹی کے ذرامے کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ خود ان کے ذریعہ نامزد ارکان پر مشتمل کمیٹی سے انصاف کی توقع نہیں کی جا سکتی ۔نوید حامد نے کہا کہ سپریم کورٹ کو چاہئے کہ وہ خود اس بہیمانہ قتل کا نوٹس لیتے ہوئے ایک جو ڈیشئل کمیشن قائم کرے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے اور جمہوریہ ہند کو ایک انارکسٹ ریاست ہونے سے بچایا جا سکے ۔












