بہارشریف (ایم ایم عالم)شہر کے ہسپتال چوراہا پر واقع بدھ کے روز انڈین سوشل جسٹس ایسوسی ایشن نالندہ کے زیراہتمام نو نکاتی مطالبات کو لے کر مرکزی حکومت کے خلاف ایک روزہ احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔احتجاجی مظاہرے میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔پروگرام کی صدارت ایسوسی ایشن کے ضلع صدر انجینئر ٹیپو نے کی اور اسٹیج کی نظامت کشور کمار نے کی۔احتجاج کے ذریعے ایسوسی ایشن نے مرکزی حکومت سے کئی اہم مسائل بشمول تعلیم،صحت اور غریبوں کے لیے زمین کے حوالے سے مطالبات رکھے۔اس موقع پر کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے اسوسی ایشن کے قومی صدر دلیپ منڈل نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ سب متحد ہو کر سماجی انصاف کی لڑائی کو مضبوط کریں۔انہوں نے کہا کہ آزادی کے 80 سال بعد بھی سماجی انصاف کا خواب ادھورا ہے اور ملک کے زیادہ تر وسائل پر چند لوگوں کا قبضہ ہے۔اپنے صدارتی خطاب میں ضلع صدر انجینئر ٹیپو نے تعلیمی نظام میں موجودہ انتشار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پرائیویٹ اسکولوں میں والدین کا مالی استحصال کیا جا رہا ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ اسکولوں میں ہر سال داخلہ فیس،کلاسز بدلنے کی الگ فیس،مقررہ دکانوں سے کتابیں اور کاپیاں خریدنے کا دباؤ اور مینٹی نینس چارجز کے نام پر اضافی وصولی کی جارہی ہے۔انہوں نے تمام حاضرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جب تک حکومت ان کے مطالبات تسلیم نہیں کرتی تحریک جاری رہے گی۔احتجاج سے خطاب کرنے والوں میں کشور کمار،اودھیش پنڈت،کرشنا داس،اجیت یادو،رمیش پاسوان،محمد عبداللہ،کلیان جی،ستیندر جمعدار،انیل پٹیل،محمد عالم، محمد ننھو،میر شہاب الدین،ہارون رشید،سونو عالم،منوج کشواہا،ارجن کشواہا،کرشنا کشواہا،کرشنا کشواہا،رمیش پنڈت، راجمنی، راجہ،انیل چندراونشی،انجلی کماری اور رویتا دیوی سمیت دیگر کثیر تعداد میں لوگ موجود تھے۔












