ناظم منصوری
مرادآباد، سماج نیوز سروس: دنیا بھر کی صیہونی طاقتوں نے جس طرح اسلام کے خلاف محاذ کھولرکھا ہے اس میں ہندوستان کے وہ متعصب افراد بھی شامل ہو گئے ہیں جن کا مقصد مسلمانوں کے جذبات مجروح کر کے سستی شہرت حاصلکرنا ہے۔ ایک طرف جہاں مسلمانوں کی مذہبی عبادت گاہوںپر روز ایک نیا دعویٰ کر کے عدالتوںمیںپیش کیا جاتا ہے تو دوسری جانب قرآن مجید کی آیتوں کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جاتا ہے۔ نیز فلمیں بنائی جارہی ہیں ۔ صرف یہی نہیں قرآن کی بے حرمتی کر کے دین اسلام کا مذاق بنایا جارہا ہے۔ امام شہر حکیم سید معصوم علی اآزاد نے اس شخص کے خلاف حکومت سے کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جس نے قرآن کی بے حرمتی کر کے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان ایک سیکولرملک ہے اور یہاں کا آئین ہر شخص کو آزادی دیتا ہے مگر کسی کو مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی اجازت نہیں۔یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ایسے شخص کے خلاف کارروائی کریں جو ملک کے امن و فرقہ وارانہ ماحول کو بگاڑنا چاہتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ دیکھا جارہا ہے کہ چند سیاسی لیڈران اپنے سیاسی مفاد کی خاطر بیان بازیاںکر کے ہندوستان کی سالمیت اور اس کی گنگا جمنی تہذیب کو ختم کر دینا چاہتے ہیں جو ملک کے لئے اچھا نہیں ہے۔انہوں نے حکومت ہند سے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ گمراہ کن فلم ہمارے بارہ پر فوری پابندی عائد کی جائے۔ اس پر حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس فلم پر پابندی لگائی جائے۔انہوںن ے کہاکہ حکومت ہند کی ذمہ داری ہے کہ یہ فلم گمراہکن لغویات فرقہ وارانہ اشتعال انگزیز جھوٹ پر مبنی بناتے ہوئے اس کو ملک کی سلامیت اور بھائی چارہ کو نقصان پہنچانے والے اور اسلامو فوبیا بتایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس نے یہ کام کئیے ہیں اور قرآن کی بے حرمتی کی ہے انکا نہایت ہی شرمناک انجام ہوا ہے۔انہوں نے مسلمانوں سے کہاکہ وہ اپنے جذبات قابو میںرکھے اور عبادت میں مشغول ہوجائیں ساتھ ہی اور دعائیںمانگے انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے جس نے بے حرمتی کی ہے اس کو گرفتار کر کے سخت سے سخت سزا دی جائے۔ جو ملک کے ماحول کو فرقہ وارانہرنگ میںرنگ دینا چاہتے ہیں۔












