تہران (ہ س)۔امریکی جریدے’نیوز ویک‘ نے ایرانی میڈیا کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایرانی فوج ڈرون طیاروں کے نظام کو ترقی دے رہی ہے اور ان طیاروں کے لیے نئے اڈوں کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ یہ پیش رفت امریکی صدر کی اس دھمکی کے بیچ ہو رہی ہے جس میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر تہران اپنے جوہری پروگرام کو ختم کرنے کے حوالے سے نئے معاہدے پر آمادہ نہ ہوا تو ایران کو حملے کا نشانہ بنایا جائے گا۔ایرانی زمینی افواج کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل کیومرث حیدری کا کہنا ہے کہ ڈرون طیاروں اور درست نشانے پر حملہ کرنے والے طیاروں کا ایک مجموعہ منظم کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ ملک کے مختلف حصوں میں بالخصوص سرحد کے نزدیک ڈرون طیارں کے اڈوں کی تجدید کی جا رہی ہے۔ ایران ڈرون طیاروں کے مزید اڈے قائم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔امریکی صدر نے بدھ کے روز ایک بار پھر اپنی دھمکی دہراتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے فوجی اقدامات کر سکتے ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر فوجی مداخلت کی ضرورت پڑی تو ہم ایسا کریں گے اور اسرائیل اس میں شریک ہو گا۔ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اس حملے کی مثال نہیں ملے گی۔رواں سال جنوری میں ایرانی فوج نے بتایا تھا کہ اس نے 1000 ڈرون طیارے تیار کر لیے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ اس کی پہنچ 1200 میل سے زیادہ ہے اور یہ تباہی کی اعلیٰ صلاحیت رکھتے ہیں۔یہ اقدام ایران کی جانب سے پاکستان اور افغانستان کے ساتھ مشرقی سرحد کو اسمگلنگ اور باغیوں سے محفوظ بنانے کے منصوبے کا حصہ شمار کیا جا رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے ڈرون طیارے اور سینسر کے آلات کا استعمال کیا جائے گا۔ایران نے ’غدیر‘ ریڈار نیٹ ورک کو توسیع دے کر اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنایا ہے۔ یہ ریڈار حملہ آور طیاروں، میزائلوں اور ڈرون طیاروں کا پتا چلانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ پیش رفت امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ممکنہ حملوں کے خلاف ایران کی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بناتی ہے۔ایرانی زمینی افواج کے کمانڈر نے ایرانی اخبار "تہران ٹائمز” کو بتایا کہ مستقبل کے ممکنہ معرکوں میں ایران کا انحصار ڈرون طیاروں پر ہے، اور یہ طیارے وزارتِ دفاع کے زیر انتظام مسلح افواج کے ڈھانچے کا ایک لازمی حصہ ہیں۔امریکی وزارت خارجہ نے کل جمعرات کے روز خبردار کیا تھا کہ ایرانی جوہری پروگرام انتہائی خطرناک مرحلے تک پہنچ چکا ہے۔ وزارت کے مطابق ایرانی ذمے داران کی جانب سے سامنے آنے والی دھمکی آمیز زبان غیر دانش مندانہ ہے۔












