کانپور،سماج نیوز سروس : عصرِ حاضر میں پیش آنے والے پیچیدہ مسائل کے شرعی حل کے لیے سابق قاضیِ شہر حضرت مولانا محمد متین الحق اسامہ قاسمیؒ کے قائم کردہ ممتاز علماء و مفتیانِ کرام کے پینل ’کل ہند اسلامک علمی اکیڈمی کانپور‘ کی اہم ماہانہ نشست جمعیۃ بلڈنگ، رجبی روڈ، کانپور میں منعقد ہوئی۔ نشست کی صدارت اکیڈمی کے صدر مفتی اقبال احمد قاسمی نے فرمائی۔ نشست میں موسمِ سرما اور ڈیجیٹل دور کے تقاضوں سے متعلق دو اہم سوالات زیرِ بحث آئے، جن پر طویل غور و خوض کے بعد متفقہ تجاویز منظور کی گئیں۔ نشست میں پہلا اہم مسئلہ مساجد میں فوم (Foam) کی چٹائیوں پر نماز کی ادائیگی سے متعلق زیرِ بحث آیا۔ سوال یہ تھا کہ سردی سے بچاؤ کے لیے اکثر مساجد میں فوم بچھایا جاتا ہے، کیا اس پر پیشانی ٹکنے سے سجدہ ادا ہو جاتا ہے؟ کیونکہ بعض فتاویٰ کی رو سے یہ شبہ پیدا ہو رہا تھا کہ شاید فوم پر سجدہ کا تحقق نہیں ہوتا۔ اس سلسلے میں فقہی جزئیات کی روشنی میں متفقہ طور پر یہ طے پایا کہ سجدے کی صحت کے لیے زمین یا اس پر بچھی ہوئی چیز پر پیشانی کا اس طرح جم جانا ضروری ہے کہ وہ مزید دبانے سے نہ دبے (یعنی سختی محسوس ہو)۔ موجودہ دور میں مساجد میں عموماً جو فوم استعمال ہوتا ہے، وہ اس قدر نرم نہیں ہوتا کہ پیشانی دھنستی چلی جائے، نیز اس فوم کے اوپر قالین یا جائے نماز بھی بچھائی جاتی ہے جس سے سختی اور استقرار پیدا ہو جاتا ہے۔ لہٰذا مساجد میں بچھے ہوئے ایسے فوم (Foam) پر سجدہ کرنے میں شرعاً کوئی کراہت نہیں اور نماز بلا شبہ درست ہے۔ عوام کو اس سلسلے میں کسی وسوسے کا شکار نہیں ہونا چاہئے۔ دوسرا اہم مسئلہ ’جار ایپ‘ (Jar App) کے استعمال اور اس کے ذریعے ڈیجیٹل گولڈ (Digital Gold) کی خرید و فروخت سے متعلق تھا۔ جدید ٹیکنالوجی کی اس صورت میں بچت کے نام پر سونے کی ڈیجیٹل سرمایہ کاری کی شرعی حیثیت کا جائزہ لیا گیا۔ ماہرین اور مفتیانِ کرام نے اس ایپ کے طریقہ کار (Mechanism) پر تفصیلی غور کرنے کے بعد یہ فیصلہ دیا کہ دستیاب معلومات کی روشنی میں ’جار ایپ‘ شرعی اصولوں اور بیعِ صرف (سونے چاندی کی خرید و فروخت) کے سخت شرعی تقاضوں پر پوری نہیں اترتی۔ لہٰذا اس ایپ کے ذریعے سونے کی خرید و فروخت کرنا اور اس میں سرمایہ کاری کرنا شرعاً درست نہیں ہے۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ سرمایہ کاری کے لیے حلال اور بے غبار ذرائع اختیار کریں۔ نشست کے آخر میں اعلان کیا گیا کہ کل ہند اسلامک علمی اکیڈمی کانپور کی اگلی نشست ان شاء اللہ 14 فروری کو منعقد ہوگی۔اس علمی نشست میں خاص طور پر مفتی اقبال احمد قاسمی، مولانا خلیل احمد مظاہری، مفتی عبد الرشید قاسمی، مولانا امین الحق عبد اللہ قاسمی، مولانا محمد انیس خاں قاسمی، مولانا محمد انعام اللہ قاسمی، مفتی حفظ الرحمن قاسمی، مفتی سید محمد عثمان قاسمی،مفتی عزیز الرحمن قاسمی، مفتی سعود مرشد بانکوی قاسمی، مفتی محمد سلطان قمر قاسمی، مفتی محمد معاذ قاسمی، مفتی عاقب شاہد قاسمی، مفتی محمد حسان قاسمی، مولانا امیر حمزہ قاسمی، مولانا محمد ذاکر قاسمی، مفتی محمد واصف قاسمی، مولانا محمد حذیفہ قاسمی، مفتی محمد ذکوان قاسمی اور حافظ محمد الماس شریک رہے۔












