سعودی عرب نے امریکہ کی ثالثی میں اسرائیل سے بات چیت شروع کی،کئی بار بات ہوئی،مگر کامیابی نہیں مل سکی،کیوں کہ سعودی عرب کا اپنا پرانا اور مضبوط موقف قائم تھا کہ فلسطینی کو ایک مکمل اور خود مختار ریاست کا درجہ دیا جائے،مہاجر فلسطینیوں کو یہاں آنے دیا جائے اور یہودی بستیوں کی تعمیر روکی جائے،مختلف خبروں کی بنیاد پر یہ کہا جا رہا تھا کہ سعودی عرب کے اِس موقف کے سامنے امریکہ اور اسرائیل مجبور ہوئے ہیں اور ممکن ہے کہ معاہدہ کامیاب ہو،لیکن7اکتوبر کو حماس نے اسرائیل پر حملہ کر دیا،جس کے جواب میں اسرائیل نے تب سے اب تک غزہ کے مسلمانوں پر مظالم کے پہاڑ توڑ دئے ہیں،حماس کے صدر اسماعیل ہانیہ کا موقف تھا کہ دو ریاستی حل ہمیں منظور نہیں ہے،بلکہ سارا حصہ فلسطین ہے اور اس سے کم پر ہم راضی نہیں ہوں گے،لیکن اب ان کے موقف میں تبدیلی آ گئی ہے،العربیہ اردو کی خبر کے مطابق اسماعیل ہانیہ نے بیان جاری کر کے کہا ہے کہ دو ریاستی حل کے لیے ہم تیار ہیں،یعنی اسرائیل کے ساتھ فلسطین بھی ایک آزاد اور خود مختار ریاست بنے اور اُس کی راجدھانی اَلقُدس ہو،سعودی عرب ایک ایسے تاریخی حل کی طرف جا رہا تھا جس میں فلسطینی مسلمانوں کے لئے امن اور سکون تھا اور اُن کے لئے خوشی تھی،اب اُسی موقف کو سیاسی تنظیم کے صدر اسماعیل ہانیہ بھی دوہرا رہے ہیں،اگر اب بھی فلسطینی صدر محمود عباس اور حماس تنظیم کے صدر اسماعیل ہانیہ فلسطین کے لیے ایک ہو جائیں اور مخلص ہو جائیں،تو بھی فلسطین کے لیے بہت کچھ بہتر ہو سکتا ہے۔
ڈاکٹر محمد وسیم،نئی دہلی












