حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کے قتل پر جہاں علاقائی اور عالمی رہنماؤں کا ردعمل سامنے آیا ہے وہیں کشیدگی میں مزید اضافے اور لبنان میں تنازع بگڑنے کے حوالے سے بھی خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔عرب نیوز کے مطابق حماس نے کہا ہے کہ بدھ کی صبح کو اسرائیلی حملے میں اسماعیل ہنیہ کی موت واقع ہوئی جو ایران کے نئے صدر کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے لیے وہاں موجود تھے۔ایرانی پاسداران انقلاب نے اسماعیل ہنیہ کے ہلاک ہونے کی صدیق کی ہے اور کہا ہے کہ وہ واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔حماس کے سینیئر عہدیدار سمیع ابو زہری نے روئٹرز کو بتایا کہ ’اسرائیلی قابض کی جانب سے ہمارے بھائی ہنیہ کا قتل کشیدگی کو ہوا دینے کے مترادف ہے اور اس کا مقصد حماس کے عزم کو توڑنا ہے۔‘انہوں نے کہا کہ لیکن حماس اپنے راستے پر گامزن رہے گا، ’ہمیں اپنی جیت کا یقین ہے۔‘فلسطین کے صدر محمود عباس نے اسماعیل ہنیہ کی ہلاکت کی مذمت کی ہے جبکہ مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی فرقوں نے ہڑتال اور بڑے پیمانے پر احتجاج کی کال دی ہے۔
چین کے دفتر خارجہ نے ردعمل میں کہا ہے کہ اسماعیل ہنیہ کے ’قتل‘ کے اقدام کی مذمت کرتے ہیں۔ترک صدر رجب طیب اردوغان نے تہران میں اپنے قریبی اتحادی اور ’بھائی‘ اسماعیل ہنیہ کے ’دھوکے پر مبنی‘ قتل کی مذمت کی۔صدر اردوغان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا ’اللہ تعالیٰ میرے بھائی اسماعیل ہنیہ پر رحم کرے جو ایک ناخوشگوار حملے میں شہید ہوئے۔انہوں نے مزید لکھا ’اس شرمناک اقدام کا مقصد فلسطینی جدوجہد، غزہ والوں کی شاندار مزاحمت اور ہمارے فلسطینی بھائیوں کی منصفانہ لڑائی کو نقصان پہنچانا ہے اور فلسطینیوں کو خوفزدہ کرنا ہے۔‘
قطر نے بھی اسماعیل ہنیہ کے قتل پر شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے گھناؤنا جرم قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ ’کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھاوا دینا ہے اور بین الاقوامی اور انسانی قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔‘قطر کی وزارت خارجہ نے جاری بیان میں زور دیا کہ ’قتل اور شہریوں کو بے پرواہی کے ساتھ نشانہ بنانے سے خطے میں افراتفری پھیلے گی اور امن کے امکانات کو نقصان پہنچے گا۔‘ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے اسماعیل ہنیہ کے قتل کو ’گھناؤنا دہشت گردانہ جرم‘ قرار دیا ہے۔حوثیوں کے سیاسی بیورو کے رکن محمد علی الحوثی نے ایکس پر پوسٹ کیا کہ اسماعیل ہانیہ کو نشانہ بنانا ’ایک گھناؤنا دہشت گردانہ جرم اور قوانین اور مثالی اقدار کی خلاف ورزی ہے۔‘لبنانی مسلح گروہ حزب اللہ نے بھی تعزیاتی پیغام جاری کیا تاہم قتل کا الزام اسرائیل پر نہیں عائد کیا ہے۔پیغام میں گروپ نے کہا کہ اسماعیل ہنیہ کی ہلاکت سے ایرانی حمایت یافتہ گروپ جیسے حزب اللہ اور حماس ایران کا مقابلہ کرنے کے لیے پہلے سے بھی زیادہ پرعزم ہیں۔دوسری جانب ایک ذرائع نے بتایا کہ ایران کی اعلیٰ سکیورٹی ایجنسی کا اجلاس متوقع ہے جس میں تہران کے قریبی اتحادی اسماعیل ہنیہ کی ہلاکت کے بعد کے لائحہ عمل پر غور کیا جائے گا۔












