ایران:گزشتہ روز ایرانی میزائل حملے کے بعد اسرائیل اور ایران کے درمیان باہمی خطرات کی روشنی میں تہران نے اپنی وارننگ کی تجدید کی ہے۔ ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے کہا ہے کہ اگر اسرائیل نے ایک اور غلطی کی تو ان کے ملک کا ردعمل دوگنا تباہ کن ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل حسن نصر اللہ کا قتل کوئی آسان حادثہ نہیں تھا۔ ایرانی وزیر دفاع عزیز ناصر زادہ نے اعلان کیا کہ اگر تل ابیب نے حالیہ میزائل حملے کا جواب دیا تو اسے مزید شدید دھچکا لگے گا۔
انہوں نے بدھ کو بیانات میں کہا کہ ان کے ملک نے اسرائیل میں شہری اشیاء کے خلاف براہ راست حملے نہیں کیے۔ انہوں نے کہا اس حملے نے اپنے 90 فیصد اہداف حاصل کر لیے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ میزائلوں نے 3 فوجی مقامات اور ایک انٹیلی جنس اڈے کو نشانہ بنایا۔ یہ بات اس وقت سامنے آئی جب پاسداران انقلاب نے منگل کو اعلان کیا کہ اس نے 3 اسرائیلی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے جن میں ایک لڑاکا طیاروں کا بیس بھی شامل ہے۔ اسرائیل نے تصدیق کی کہ ایرانی حملے میں پہلی مرتبہ ’’ فتاح‘‘ طرز کے ہائپر سونک میزائل کا استعمال بھی کیا گیا۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جن تین اڈوں کو نشانہ بنایا گیا ان میں "نیواٹیم” اڈہ جہاں ایف 35 طیارے کھڑے ہوتے ہیں، ’’ ہاٹزرم‘‘ اڈہ جہاں ایف 15 طیارے ہوتے ہیں اور ’’ ٹیل نوف‘‘ اڈہ شامل ہیں۔ انہوں نے فتاح ہائپرسونک میزائلوں کے استعمال کی طرف بھی اشارہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ لانچ کیے گئے 90 فیصد میزائلوں نے کامیابی سے اپنے اہداف کو نشانہ بنایا۔ امریکہ نے ایران کے اس میزائل حملے کو ناکام اور غیر موثر قرار دیا ہے۔
دریں اثناایران کے چیف آف سٹاف نے بدھ کے روز اس عزم کا اظہار کیا کہ اگر ان کی سرزمین پر حملہ ہوا تو اسرائیل کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جائے گا۔ تہران نے گذشتہ روز اپنے دشمن پر 200 کے قریب میزائل داغے جس کے لیے اسرائیل نے یہ عزم کیا کہ تہران کو "اس کی قیمت ادا” کرنا ہو گی۔ اس پیش رفت کے بعد ایرانی افواج کے سربراہ کا بیان سامنے آیا ہے۔
میجر جنرل محمد باقری نے سرکاری ٹی وی پر کہا، میزائلوں کی بوچھاڑ "بڑی شدت کے ساتھ دہرائی جائے گی اور یہودی حکومت کے تمام بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جائے گا۔”ایرانی میڈیا نے میزائل داغنے کی آن لائن فوٹیج نشر کی جس کے بارے میں سپاہِ پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ انہوں نے تل ابیب اور اس کے ارد گرد "تین فوجی مراکز” کو نشانہ بنایا۔
پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ "90 فیصد” میزائلوں نے منگل کی رات "اپنے اہداف کو نشانہ بنایا”۔اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ ایران نے اس کی سرزمین پر تقریباً 180 میزائل داغے جن میں سے بیشتر کو روک لیا گیا۔












