لبنان:حزب اللہ کے نائب رہنما نعیم قاسم نے منگل کو نشر ہونے والے تبصروں میں کہا ہے کہ ان کی تحریک لبنان کے لیے جنگ بندی تک پہنچنے کی کوششوں کی حمایت کرتی ہے لیکن پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ انہوں نے پیشگی شرط کے طور پر غزہ جنگ بندی کا کوئی تذکرہ نہیں کیا۔ حزب اللہ قبل ازیں اسرائیل پر حملے روکنے کے لیے غزہ میں جنگ بندی کی شرط عائد کرتا رہا ہے۔
قاسم نے کہا کہ حزب اللہ نے پارلیمنٹ کے سپیکر اور اپنے اتحادی نبیہ برّی کی لڑائی روکنے کی کوششوں کی حمایت کی جو حالیہ ہفتوں میں اسرائیلی زمینی دراندازی اور سیکریٹری جنرل حسن نصر اللہ سمیت حزب اللہ کے چند اعلیٰ رہنماؤں کی ہلاکت کے بعد بڑھ گئی ہے۔
قاسم نے 30 منٹ کے ٹیلی ویژن خطاب میں کہا، ہم برّی کی قیادت میں جنگ بندی کے عنوان سے سیاسی سرگرمی کی حمایت کرتے ہیں۔”
انہوں نے کہا، "کسی بھی صورت میں جنگ بندی کے معاملے کے کوئی صورت اختیار کرنے کے بعد اور ایک بار جب یہ سفارت کاری سے حاصل ہو جائے تو باقی تمام تفصیلات پر تبادلۂ خیال ہو سکتا ہے اور فیصلے کیے جا سکتے ہیں۔ اور اگر دشمن (اسرائیل) اپنی جنگ جاری رکھے تو پھر فیصلہ میدانِ جنگ میں ہو گا۔”
حزب اللہ نے ایک سال قبل اپنے اتحادی حماس کی حمایت میں اسرائیل پر میزائل داغنا شروع کیا تھا اور سات اکتوبر 2023 کو جنوبی اسرائیل پر حماس کی قیادت میں حملے کے بعد سے اسرائیل کے ساتھ جنگ آزما ہے۔
حزب اللہ کے سرکردہ رہنماؤں نے گذشتہ سال سے بارہا کہا ہے کہ جب تک غزہ میں جنگ بندی نہ ہو جائے، یہ گروپ اپنے حملے بند نہیں کرے گا لیکن قاسم کے خطاب سے اب اس پالیسی سے دستبرداری ظاہر ہوتی ہے۔
اسرائیلی حملوں میں رات کے وقت بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں میں گروپ کے مضبوط مرکز کو نشانہ بنایا گیا اور منگل کو زمینی دراندازی کا دائرہ اسرائیل کے ساتھ لبنان کی جنوبی سرحد کے اضافی حصوں تک پھیل گیا۔
قاسم نے البتہ اس کے ساتھ ہی ایک مخالفت آمیز لہجے میں کہا، گروپ کی صلاحیتیں برقرار ہیں، اس نے اسرائیل پر راکٹ فائر کیے ہیں اور وہ لبنان میں اسرائیلی فوجیوں کے ساتھ "جھڑپوں” کے لیے تیار ہے۔












