غزہ:اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز غزہ میں انسانی علاقہ قرار دیئے گئے ایک پرہجوم حصے سے انخلا کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ وہ خان یونس میں حماس کے خلاف کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ اس میں ایک عارضی خیمہ کیمپ المواصی کا کچھ حصہ بھی شامل ہے جہاں ہزاروں افراد پناہ لیے ہوئے ہیں۔
یہ حکم ایک راکٹ داغنے کے جواب میں دیا گیا ہے جس کے بارے میں اسرائیل نے کہا ہے کہ اس علاقے سے داغا گیا۔ غزہ کے دوسرے حصوں سے فرار ہو کر آنے والے فلسطینیوں کے لیے نامزد انسانی علاقے کو خالی کرنے کا یہ دوسرا حکم ہے جو ایک ہفتے کے اندر جاری ہوا۔ اسرائیل کی اذیت ناک فضائی اور زمینی مہم کے دوران کئی فلسطینیوں تحفظ کی تلاش میں متعدد بار بےگھر ہوئے ہیں۔
النصر ہسپتال کے اعداد و شمار کے حوالے سے غزہ کی وزارتِ صحت نے بتایا کہ پیر کو انخلاء کے حکم کے بعد خان یونس کے ارد گرد متعدد اسرائیلی فضائی حملے ہوئے جن میں کم از کم 70 افراد ہلاک ہوئے۔
یہ علاقہ 60 مربع کلومیٹر (تقریباً 20 مربع میل) "انسانی ہمدردی زون” کا حصہ ہے جہاں اسرائیل پوری جنگ کے دوران فلسطینیوں سے جانے کے لیے کہتا رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ اور انسانی ہمدردی کے گروپوں نے کہا ہے کہ زیادہ تر علاقہ خیمہ کیمپوں سے ڈھکا ہوا ہے جہاں صفائی اور طبی سہولیات کا فقدان ہے اور امداد تک رسائی محدود ہے۔ اسرائیل کے اندازوں کے مطابق تقریباً 1.8 ملین فلسطینی وہاں پناہ گزین ہیں۔ یہ جنگ سے پہلے کی غزہ کی 2.3 ملین آبادی کے نصف سے زیادہ ہے۔
علاقے کی وزارتِ صحت کے مطابق غزہ میں جنگ میں 39,100 سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جو اپنے شمار میں مزاحمت کاروں اور عام شہریوں میں فرق نہیں کرتی۔ اقوامِ متحدہ نے فروری میں اندازہ لگایا تھا کہ اس علاقے میں تقریباً 17,000 بچے اب تنہا ہیں یعنی ان کا کوئی رشتے دار اور اہلِ خانہ باقی نہیں بچے اور اس کے بعد سے یہ تعداد بڑھنے کا امکان ہے۔
دریں اثنا اقوام متحدہ نے بتایا ہے کہ غزہ کی پٹی کے جنوبی علاقے خان یونس شہر کے ارد گرد چار روز تک جاری رہنے والی شدید لڑائی کے دوران ایک لاکھ 80 ہزار سے زائد فلسطینی نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔
دوسری طرف اس علاقے میں اسرائیلی قیدیوں کی لاشیں اور باقیات نکالنے کا آپریشن جاری ہے۔
اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر برائے انسانی امور [OCHA] نے کہا ہے کہ خان یونس کے علاقے میں حالیہ "شدید لڑائی” میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے آغاز کے نو ماہ بعد غزہ بھر میں داخلی نقل مکانی کی نئی لہریں پیدا ہوئیں”۔
انہوں نے مزید کہا کہ "تقریباً ایک لاکھ 80 ہزار افراد” وسطی اور مشرقی خان یونس سے پیر اور جمعرات کی درمیانی شب بے گھر ہوئے، جب کہ سینکڑوں دیگر لوگ اب بھی مشرقی خان یونس میں پھنسے ہوئے ہیں”۔
پیر کے روز اسرائیلی فوج نے جنوبی شہر کے کچھ حصوں کو خالی کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔ اس نے اعلان کیا کہ اس کی افواج وہاں زبردستی کام کریں گی۔ تاہم ساتھ ہی فوج نے علاقے کو محفوظ قرار دیتے ہوئے فلسطینیوں کو اس طرف نقل مکانی کے احکامات دیے تھے۔
بدھ کے روز اسرائیلی فوج نے خان یونس میں آپریشن کے دوران پانچ افراد کی لاشیں برآمد کرنے کا اعلان کیا، جن میں ایک خاتون اور دو فوجی شامل ہیں۔ یہ تمام افراد اسرائیل پر حماس کے حملے کے دوران مارے گئے تھے اور انہیں غزہ کی پٹی منتقل کر دیا گیا تھا۔اس ہفتے خان یونس میں حالیہ لڑائیوں کے آغاز کے بعد سے اسرائیلی فوج نے جمعہ کے روز کہا کہ اس کی افواج نے شہر میں تقریباً 100 جنگجوؤں کو ختم کر دیا ہے۔
اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف ہرزی ہیلیوی نے کہا کہ قیدیوں کی لاشیں زیر زمین چھپی سرنگوں اور دیواروں سے برآمد ہوئی ہیں۔
ہیلیوی نے اسرائیلی فوج کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں مزید کہا کہ ان کی افواج "ماضی میں ہلاک ہونے والوں کی لاشوں کے قریب تھیں اور ہمیں اس ہفتے تک یہ نہیں معلوم تھا کہ ان تک کیسے پہنچیں”۔












