تہران :دمشق میں ایرانی قونصل خانے کی عمارت پر حملے کی مذمت کے ضمن میں ایران کے حکومتی عہدیداروں کے بار دگر سامنے آنے والے بیانات کے تناظر میں تہران نے منگل کے روز حملے کا بدلہ لینے سے متعلق دھمکی کا ایک مرتبہ پھر اعادہ کیا ہے۔
ایران کے مرشد اعلیٰ علی خامنہ ای نے منگل کے دھمکی دی ہے ’’کہ تہران، اسرائیل کو دمشق میں اپنے قونصل خانے کو نشانہ بنانے پر قرار واقعی سزا دے گا۔‘‘
ایک بیان میں علی خامنہ ای نے کہا ’’کہ ہمارے بہادر سپوت صہیونی حکومت کو سزا دیں گے۔‘‘ ان کے بہ قول: ’’اسرائیل اپنے اس جرم پر ضرور پچھتائے گا۔‘‘
ادھر ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر خاص علی اکبر ولایتی نے یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ ’’اس بات سے قطع نظر کہ واشنگٹن کو اس حملے سے متعلق علم تھا یا نہیں، تہران ایرانی قونصل پر حملے میں برابر کا شریک ہے۔‘‘
مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق حالیہ بیانات ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کے بیان کے بعد سامنے آئے ہیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اسرائیل، ایرانی قونصل خانے کو نشانے بنانے پر شدید ردعمل کا سزا وار ہو گا۔
ادھر ایرانی صدر ابراہیم ریئسی نے بھی ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی حملے کا جواب ضرور دیا جائے گا۔
ایران میں قومی سلامتی نے گذشتہ روز ایک اجلاس کے بعد سامنے آنے والے اعلامیہ میں بتایا ہے کہ ایرانی قونصل کو نشانہ بنانے کے بعد تہران نے مناسب اقدامات اٹھائے ہیں، تاہم اعلامیہ میں ان اقدامات کی تفصیل نہیں بتائی گئی۔
قومی اسمبلی کے سپیکر کا کہنا تھا کہ ایران کا جواب متناسب، فیصلہ کن اور قومی امنگوں کا ترجمان ہو گا۔
ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ ناصر کنعانی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ گھناؤنے حملے کے تمام پہلوؤں کی تحقیقات کی جا رہی ہیں اور صیہونی حکومت کو اس کے نتائج کی ذمہ داری اٹھانا ہو گی۔
ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ ایران جارحیت کے جواب کا حق رکھتا ہے اور اس کا فیصلہ خود کرے گا کہ حملہ کرنے والے کو کب سزا دی جائے۔
واضح رہے کہ شام میں ایرانی سفارت خانے کو ایسے موقع پر نشانہ بنایا گیا ہے جب غزہ میں جاری جنگ پر اسرائیل کے وزیرِ اعظم نیتن یاہو کو نہ صرف عالمی دباؤ کا سامنا ہے بلکہ اسرائیل میں بھی بڑے مظاہرے ہو رہے ہیں۔
لگ بھگ چھ ماہ سے جاری غزہ جنگ میں اب تک 32 ہزار سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ فلسطینی عسکری تنظیم حماس کی جانب سے گزشتہ برس سات اکتوبر کو اسرائیل پر حملے میں 1200 کے قریب افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ حماس نے 200 سے زیادہ کو یرغمال بنا لیا تھا۔
حماس کے حملے کے بعد اسرائیل نے غزہ پر چڑھائی کرتے ہوئے زمینی و فضائی حملے کیے اور یہ حملے بدستور جاری ہیں۔
دریں اثناسعودی عرب نے شام کے دارالحکومت دمشق میں ایرانی قونصلیٹ کی عمارت کو نشانہ بنانے کی مذمت کی ہے۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ’سعودی عرب کسی بھی جواز اور بہانے سے سفارتی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کو واضح طور پر مسترد کرتا ہے‘۔
بیان میں کہا گیا کہ ’یہ حملہ بین الاقوامی سفارتی قوانین اور سفارتی استثنی کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے‘۔یا رہے کہ دمشق میں اسرائیل کے مشتبہ میزائل حملے میں ایرانی سفارتخانے سے متصل عمارت کو نشانہ بنایا گیا۔
تہران کا کہنا ہے ہلاک ہونے والوں میں تین سینیئر کمانڈروں سمیت سات فوجی مشیر شامل ہیں۔












