بہارکی مہاگٹھ بندھن سرکارمیں شامل جماعتیں سمجھتی ہیں کہ ملک اورریاست کاجوماحول ہے ایسے میں مسلمان مجبورہیں کہ وہ ان کوہی ووٹ دیں گے چاہے ان کے لیے کام کریں یانہ کریں،اسی اطمینان میں راجد،جدیواورکانگریس اتحاد مسلمانوں کے مسائل کوحل کرناضروری نہیں سمجھتا۔یہ ان کی بڑی غلط فہمی ہے۔بہارمیں اردواوراقلیتوںکے کئی اہم مسائل ہیں جن پرچپی سادھ رکھی گئی ہے۔ نتیش-تیجسوی سرکار مسلمانوں کے مسائل پرمکمل سوئی ہوئی ہے۔بلاشبہ نتیش کمارنے اقلیتوں کے لیے کام کیے ہیں،اورراجدبھی مسلم- یاددوسیاست پر ٹکی ہوئی ہے۔لیکن یہ بھی سچ ہے کہ کئی مسائل ہنوززیرالتواءہیں اوران پارٹیوں کارویہ غیرسنجیدہ ہے ۔رمضان میں دونوں لیڈران نے خوب افطارپارٹی میں شرکت کی۔عیدملن کاسلسلہ چلا۔اب اگرعیدملن اورافطارپارٹی اورٹوپی پہننے سے فرصت مل گئی ہوتووزیراعلیٰ اورنائب وزیراعلیٰ ذرا ان مسائل کی طرف توجہ دیں جن کے حل کرنے سے حکومت پرمسلمانوں کااعتمادبڑھے گا۔بہارمیں تیزی کے ساتھ ایم آئی ایم کی مقبولیت بڑھ رہی ہے،اس لیے نتیش کماراورتیجسوی یادوہرگزنہ سمجھیں کہ مسلمانوں کونظراندازکرکے وہ مسلم ووٹ آسانی سے لے لیں گے۔دوضمنی انتخابات میں اس کااندازہ توہوہی گیاہوگاجہاں مسلمانوں کی ناراضگی جھیلنی پڑی اورنتیجہ سامنے آگیا۔اسمبلی اورلوک سبھاالیکشن میں ایم آئی ایم نے اگرمضبوطی سے الیکشن لڑا اور مسلمانوں کے تئیں بہارحکومت کے عدم تو جہ اوراستحصال کواس نے اگرانتخابی مدعابنایاتوایم آئی ایم بھلے ہی کامیاب نہ ہولیکن بہت ساری سیٹوں پرمہاگٹھ بندھن کونقصان ہوگا۔یہ طے ہے۔اس لیے مہاگٹھ بندھن کوسمجھناچاہیے کہ مسلمان ان کابندھواغلام نہیں ہے کہ وہ ان کے مسائل کوحل نہ کریں اورووٹ ملتاجائے۔اب بڑی حدتک بیداری آرہی ہے۔
بہارحکومت کی اردواورمسلمانوں کے تئیں یہ بے حسی نہیں ہے توکیاہے کہ اب تک اردوڈائریکٹوریٹ میں کوئی مستقل ڈائریکٹرنہیں ہے۔پارٹ ٹائم ڈائریکٹرسے کام چلایاجارہاہے۔بہارمدرسہ ایجوکیشن بورڈمیں کئی ماہ تک چیئرمین کاعہدہ خالی رہا،اب وہاں بھی عبوری چیئرمین کوبٹھایاگیا۔بہاراردواکیڈمی کابھی وہی حال ہے۔تووزیراعلیٰ کون سااردوکے ساتھ احسان کررہے ہیں؟
اسی طرح معاون اردومترجم کامسئلہ زیرالتواءہے۔1294سیٹوں کے لیے پی ٹی اورمینس کے نتائج جاری ہوگئے۔جولائی-اگست2022میں ان کی کونسلنگ ہوچکی ہے۔نوماہ بعدتک فائنل میرٹ لسٹ نہیں آسکی ہے۔بہانہ یہ بنایاجارہاہے کہ معاملہ کورٹ میں ہے،جب کہ یہ آدھی حقیقت ہے۔پوری حقیقت یہ ہے کہ کورٹ میں معاملہ ان امیدواروں کاہے جن کے پاس بی ایس ایس سی کے نوٹیفکیشن کے مطابق پرانااین سی ایل ،پراناای ڈبلیوایس اورپرانااوبی سی نہیں ہے۔لیکن جن لوگوں نے دستاویزی شرائط پوری کی ہیں،جن کی تعدادتقریباآٹھ سوہے۔ بہارسرکاران کی فائنل لسٹ نکال کرکارروائی کیوں آگئے نہیں بڑھارہی ہے۔یہ اپنے آپ میں بڑاسوال ہے۔جب ہائی کورٹ نے اسٹے نہیں لگایاہے تورزلٹ جار ی کرنے میں کیادشواری ہے ؟اس سے نیت پرشبہ ہونایقینی ہے۔ وزیراعلیٰ چاہیں توایک حکم پربی ایس ایس سی کم ازکم ان امیدواروں کی فائنل میرٹ لسٹ نکال سکتاہے جن کی دستاویزات مکمل ہیں۔لیکن سوال نیت کاہے۔نہ تووزیراعلیٰ کی توجہ اس پرہے اورنہ ان کے پارٹی کے لیڈران توجہ دلارہے ہیں ۔تیجسوی یادوجب اپوزیشن میں تھے توانہوں نے اس طرف دل چسپی لی تھی۔لیکن جب سے حکومت میں آئے ہیں تومسلمانوں کو اپنا بندھوا غلام سمجھ کرانھوں نے چپی سادھ رکھی ہے۔اورسمجھتے ہیں کہ مسلمانوں کے پاس آپشن نہیں ہے۔یہ بڑی بھول ہے۔ ان کی پارٹی کے ایک دومسلم لیڈران دل چسپی لے رہے تھے لیکن اب ان کی توجہ کہیں اورہے۔حکومت سمجھتی ہے کہ اسے الیکشن تک ٹال کراورانتخابات کے وقت جوائننگ لیٹردے کرمسلم ووٹ حاصل کریں گے،تواس سے سرکارکامزیدنقصان ہے،لوگ اس تاخیرسے کافی ناراض ہیں۔ویسے بھی اگرابھی میرٹ لسٹ آتی ہے توپراسیس ہونے میں مزیدپانچ چھ ماہ لگیں گے جب تک ملک انتخابی موڈمیں آچکاہوگا۔اسی طرح جن امیدواروں کامعاملہ کورٹ میں ہے،ان پربھی سرکارمداخلت کرکے جلداقدام کرسکتی ہے۔لیکن سوال یہی ہے کہ نیت درست ہونی چاہیے۔اگرنیت صاف ہے تومعاون اردومترجم کے مسائل پرحکومت سنجیدگی سے غورکرے اوربی ایس ایس سی کوحکم جاری کرے۔اسی طرح اردومترجم کی 202سیٹوں میں صرف 149سیٹوں پربحالی ہوسکی ہے۔بقیہ 53سیٹیں خالی رہ گئی ہیں۔سرکارچاہتی تواردومترجم کی تیسری ، چوتھی لسٹ نکال کربھی سیٹوں کوپُرکرسکتی تھی۔
اردوٹی ای ٹی کامعاملہ اسی سرکارکی دین ہے۔ہزاروں امیدوارپریشان ہیں لیکن بہارسرکارصرف باتیں بنارہی ہے۔بہارمیں اردوبحیثیت لازمی مضمون کامسئلہ بھی زیربحث ہے۔سابق وزیرتعلیم بہانہ بناتے رہے اوراردوپرتلوارلٹک رہی ہے لیکن کیامجال کہ بہارحکومت واضح نوٹیفکیشن نکال کراس معاملہ کوحل کرے اورخدشات دور کرے۔سرکاری مدارس کامعاملہ کورٹ میں ہے،اگرکسی مدرسہ میں گڑبڑی تھی تواس کی جانچ کرتے،لیکن اس فہرست کے سارے مدرسوں پرتلوارچلادی گئی۔یہ تنازعہ بھی اسی سرکارمیں کھڑاکیاگیاہے۔
الغرض سرسری طورپریہ چنداہم اورضروری مسائل ہیں جن کی طرف حکومت کوتوجہ دینی چاہیے۔سیکولرسرکارانصاف پرمبنی حکومت کی بات کرتی ہے لیکن اردواوراقلیتوں کے ساتھ اس کارویہ انتہائی غیرمنصفانہ ہے۔اگراس نے ان مسائل کوسنجیدگی سے حل نہیں کیاتونہ افطارپارٹی کاکوئی فائدہ ہوگا،نہ عیدملن کا۔مسلمان سہسرام اور نالندہ واقعے سے کافی ناراض ہیں۔مسلمانوں کااعتمادجیتناہے توبہارسرکارکوان تمام مسائل کوترجیحی طورپرحل کرناہوگابصورت دیگراس صورت حال کابھرپورفائدہ ایم آئی ایم حاصل کرے گی جس سے ایم آئی ایم کی بھلے ہی سیٹیں نہ آئیں لیکن مہاگٹھ بندھن کوبڑانقصان ہوگاجس کی ذمہ دار سراسرمہاگٹھ بندھن جماعتوں کی بے اعتنائی اورموجودہ بے حسی ہوگی۔بنیادی سوال یہی ہے کہ بہارسرکارایساموقع کیوں دے رہی ہے کہ ایم آئی ایم اسے نقصان پہونچائے۔اورمسلمانوں کااعتمادکمزورہو۔اس لیے وقت رہتے بہارحکومت کواقدام کرناہوگا۔مسلم تنظیمیں بھی ان مسائل کی طرف حکومت کی توجہ دلائیں،اگرسیکولرسرکاریہ حل نہیں کرے گی توکون کرے گا؟انصاف پرمبنی حکومت کادعویٰ کیسے صحیح ہوگا؟ان کی پارٹیوں میں مسلم نمائندے ،مسلم بیوکریٹس اورامارت شرعیہ،ادارہ شرعیہ،خانقاہ مجیبیہ،خانقاہ منعمیہ،ملی کونسل بہار،جمعیتہ علماءبہاراس میں اپنارول اداکرےں اورحکومت سے ان تمام اہم مسائل پرکھل کربات کریں تاکہ مسلمانوں کااعتمادکمزورہونے سے بی جے پی فائدہ نہ اٹھالے اورسمجھائیں کہ اسی میں کانگریس،راجد،جدیواتحادکا فائدہ ہے اوریہ حکمراں جماعتوں کے سماجی انصاف کے نعرہ کاتقاضہ بھی ہے۔












