نئی دہلی ،ہمارا سماج:آج جامعہ ہمدرد کے سنٹر آف ایکسی لینس ان یونانی میڈیسن کے کانفرنس روم میں ماہرین، مفکرین اور معزین کا اجتماع طب یونانی کی ترقیاتی منصوبوں کی خوش آئند توقعات سے لبریز تھا کیونکہ آج آیوش پروفیشنلز کی صلاحیت سازی پر دوسری قومی ورکشاپ کا افتتاح عمل میں آیا۔یہ ورکشاپ حکومت ہند کی وزارتِ آیوش کی آیور سواستھیا اسکیم کے تحت شیڈول ہے۔جامعہ ہمدرد کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد افشار عالم نے اس جلسہ کی صدارت فرمائی انھونے طب کی ترقی کے لئے باہمی تعاون کے ساتھ سیکھنے اور اختراع میں ایک اہم پیش رفت کی نشاندہی کی۔ پروفیسر عاصم علی خان آرگنائزنگ چیئرمین اور پروفیسر سعید احمد، آرگنائزنگ سیکرٹری کی سربراہی میں اس تین دن کی ورکشاپ کا شاندار آغاز ہوا۔ اس ورکشاپ میں پروفیسر مارکو لیونٹی، یونیورسٹی آف کیگلیری، اٹلی، اور پروفیسر محمد ایف الاجمی کنگ سعود یونیورسٹی، سعودی عرب کا خیرمقدم کیا گیاجو بین الاقوامی مہارت کو مقامی منظر نامے پر لے کر آئے۔چیئرپرسن ڈاکٹر ناہید پروین اور ڈاکٹر یوگیتا منجال نے اس پروگرام کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ تین روزہ قومی ورکشاپ نے علم کے تبادلے اور پیشہ ورانہ ترقی کو فروغ دینے کے مقصد سے دلچسپ سیشنز کی ایک سیریز کا اہتمام کیا ہے۔ یہ ٹریننگ جدید ترین تحقیق سے متعلق تکنیکوں پر مبنی ہوگی جس میں پہلے دن سلیکو ڈاکنگ، نیٹ ورک فارماکولوجی اور آرٹیفیشیل انٹیلیجنس پر مبنی مہارتیں ہوں گی جس کے بعد دوسرے دن سسٹمیٹک ریویو، میٹا اینالیسس اور زیبرا فش کو اسکریننگ کے طریقہ کار کے ساتھ ساتھ تیسرے دن کے لیکچرز میں وٹرو سائٹوٹوکسیٹی ٹیسٹنگ میں شامل کیا جائے گا۔ ورکشاپ میں بین الاقوامی شرکاء کے علاوہ ملک بھر سے 60 سے زائد مندوبین نے شرکت کی۔ 25 فروری 2024 کو مکمل ہونے والے تین روزہ پروگرام کے دوران 15 سے زیادہ ماہرین کو ان کی ماہرانہ گفتگو اور تربیت کے لیے مدعو کیا گیا ہےجس میں سیکھنے اور علمی مباحث کے لیے ایک غیر معمولی پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے۔پروگرام کے آخر میں پروفیسر انور حسین خان اور ڈاکٹر محمد احمد نے مہمانان کا شکریہ ادا کیا ۔












