ناظم منصوری
مرادآباد، سماج نیوز سروس: غازی کے پنڈت گستاخ رسول کے ذریعہ شان رسالت میں کی گئی گستاخی کو نا قابل برداشت اور شرمناک قرار دیتے ہوئے اس کی سخت الفاظ میں مذمت کی جارہی ہے اس نے پوری دنیا کے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ اس کا یہ بیان قومی سا لمیت کے لئے بڑا خطرہ ہے۔گزشتہ دنوں نے مختلف سیاسی سماجی تنظیموں کے ذریعہ کلکٹریٹ پر مظاہروں اور مکتوب کا سلسلہ جاری ہے۔ آج بھی جمعیۃ علماء شہر صدر مولانا حفظ الرحمن و یوپی کے سکریٹری مفتی عبد الجلیل کی قیادت میں جمعیۃ کے ذمہ داران اور عہدیداران کلکٹریٹ پر جمع ہوئے اور ایک مکتوب صدر جمہوریہ ہند کو ضلع مجسٹریٹ کے توسل سے ارسال کیا۔ مکتوب میں کہا کہ گستاخ رسول جو خود کو یوپی ضلع غازی آباد میں واقع ڈاسنا مندر کا مہنت بتاتا ہے گزشتہ دنوں اس نے جلسہ عام کو خطاب کرتے ہوئے نبی کریمﷺ کی شان میں گستاخانہ الفاظ کا استعمال کیا۔ جس میں بھارت میںرہنے والے مسلمانوں اور تمام عام بھارتیوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔ اور دکھ ہوا۔ اس نام نہاد مہنت کے ذریعہ دی گئی بد زبانی سے پورے ملک میں غم و غصہ کا ماحول پیدا ہو گیا ہے یہ کوئی نئی بات نہیں یہ پہلے بھی اس طرح کی حرکتیں کر چکا ہے اور یہ شخص جیل بھی جا چکا ہے۔ اس پنڈت کو چیف جسٹس آف انڈیا کے ذریعہ ضمانت دی گئی کہ مستقبل میں یہ شخص اس طرح کی کوئی بد تمیزی یا بد اخلاقی کا مظاہرہ نہیں کرے گا۔ مگر اس کے ذریعہ عدالت عظمی کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ملک کا امن و امان بگاڑنی کی کوشش کی جارہی ہے۔ جمعیۃ علماء شہر مرادآبناد مطالبہ کرتی ہے کہ جس سے ملک کے مسلمانوں کے غصہ پر قابو پایا جا سکے اور امن و امان قائم رہ سکے۔ مکتوب میںمطالبہ کیا گیا کہ اس کی ضمانت پر عدالت عظمیٰ نے جو ضمانت کا حکم دیا تھا ان کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ اس کی ضمانت خارج کی جائے۔ گستاخ رسول کے ذریعہ کی گئی گستاخی کے خلاف سخت دفعات میں مقدمہ درج کیا جائے۔ اور این ایس اے کے تحت کارروائی کی جائے۔ اس کو ملی ضمات پر کورٹ کے احکامات کی جانچ کے مدنظر پر اس کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کا بھی مقدمہ درج کرایا جائے۔ جمعیۃ علماء مانگ کرتی ہے کہ صدر جمہوریہ ہند کے ذریعہ اس میں مداخلت کرتے ہوئے اس ملک میں ایسے قانون بنایا جائے کہ کوئی بھی شخص کسی بھی مذہب کے ماننے والوں پر گستاخانہ تبصرہ نہ کرے اور اگر کرتا ہے تو اس پر ملک سے غداری کا مقدمہ درج کراکر جیل بھیجا جائے۔ جمعیۃعلماء مانگ کرتی ہے کہ اس مکتوب میں سنجیدگی سے غور کر کے ہدایات جاری کی جائیں جس سے اس ملک کی گنگا جمنی تہذیب اور ملک کے امن و امان اور بھائی چارہ کو بچایا جا سکے۔ اور ہم سب ملکر ملک کے عوام کو یہ بتائیںکہ بھارت ملک دھرم سے نہیں آئین سے چلتا ہے اور یہ تبھی ممکن ہے جب اس ملعون جیسے شخص کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔ مظاہرہ میں شہر جنرل سکریٹری مولانا رحمت علی قاسمی،شارق ایڈو کیٹ،مولانا اختر الاسلام،ا سلم پنچایتی، نظام حسین پما،اسلم ایاز، مولانا ربیع الدین، حاجی محمد احمد، رضوان قریشی،مفتی نعمان، حاجی محمد طاہر، مفتی طلحہ، عظیم احمد، مولانا فضل الرحمن کے علاوہ دیگر لوگ موجود تھے۔ دوسری جانب سماج وادی پارٹی ضلع مہیلا سبھا کی ضلع صدر کونسلر شریںگل کی قیادت میں بڑی تعداد میں خواتین نے بھی کلکٹریٹ پر مظاہرہ کر کے مطالبہ کیا ہے کہ گستاخ رسول کے خلاف ملک سے بغاوت کا مقدمہ درج کیا جائے اور اسے گرفتار کر کے سخت سے سخت سزا دی جائے جس سے ملک کجیک امن و امان کو محفوظ رکھا جا سکے۔ شریں گل نے کہا کہ اس ملعون نے جو نبی کی شان میں گستاخی کی ہے اسے کوئی بھی انسان برداشت نہیں کر سکتا۔ آپ ﷺ تو دنیا میں امن کا پیغام لے کر آئے تھے۔ سبھی آپ کے اس پیغام پر یقین رکھتے ہیں۔ہم اس گستاخی کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں یہ آئین کے خلاف ہے یہ نفرتی زبان ملک میںسوچی سمجھی سازش کے تحت نفرت پھیلانے کے لئے کی گئی جس سے ملک کا آپسی بھائی چارہ خراب ہو۔ انہوں نے صدر جمہوریہ ہند سے مطالبہ کیا ہے کہ اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے ۔ جلد سے جلد جیل بھیجا جائے۔مظاہرہ کرنے والوں میں شریں گل، وملیش، پریتی، راکیش راٹھی،یاسمین،گیتا یادو، فاخرہ لئیق ،ریشما وغیرہ تھیں۔












