دیوبند (سماج نیوز سروس) جمعیۃ علماء ضلع مظفرنگرکے ضلعی یونٹ کا انتخاب آج مکمل ہوگیا ہے۔ جس میں ضلع صدر اور ضلعی جنرل سکریٹری کے ساتھ ساتھ ضلع کے نائب صدور اور ضلعی نائب سکریٹریوں کا اتفاق رائے سے انتخاب کیا گیا۔ انتخابی جلسہ کا آغاز قاری حذیفہ کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ انتخابی اجلاس کی صدارت صوبہ سے تشریف لائے مفتی عبد الجلیل خان نے کی۔ نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے مفتی نوید نے مقاصد پر روشنی ڈالی۔ انتخابی اجلاس جمعیۃ علماء کے ریاستی عہدیداروں کی نگرانی میں منعقد کیا گیا۔انتخابی اجلاس میں سپریم کورٹ کی طرف سے بلڈوزر کی کارروائی پر عبوری روک کا خیر مقدم کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے بلڈوزر کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی تھی، جس پر سپریم کورٹ نے عبوری روک لگا دی ہے جو ایک اہم کارنامہ ہے۔ شہر کے مدرسہ چراغیہ محمد حسینیہ میں جمعیۃ علماء ہند کی انتخابی میٹنگ کے آغاز سے قبل جمعیۃ علماء ہند کی پرچم کشائی ہوئی۔ انتخابی اجلاس میں ضلع بھر سے جمعیۃعلماء کے 400 کے قریب سرگرم اراکین نے شرکت کی اور متفقہ طور پر ضلعی یونٹ کا انتخاب کیا۔ مفتی انتظار نے ضلعی صدر کے لیے مولانا مکرم کا نام پیش کیا جس کی تمام موجود اراکین نے ہاتھ اٹھا کر تائید کی۔ ضلع صدر منتخب ہونے کے بعد مولانا مکرم علی قاسمی نے ضلعی نائب صدور کے لیے مفتی انتظار قاسمی، محمد آصف قریشی بڈھانہ، مولانا صادق، مولانا بدر اختر، حاجی عزیز الرحمن، قاری فرقان، اور مولانا عبدالخالق قاسمی کو ضلع جنرل سیکرٹری کے علاوہ ضلع نائب سکریٹری کے لیے مولانا عبداللہ سانجک، مفتی محمد عثمان، مولانا مظفر اللہ، مولانا عمران، مولانا نسیم، مولانا عبداللہ سروٹ، قاری خالد اور خزانچی کے طور پر مفتی عین الدین قاسمی وغیرہ کے نام پیش کیے گئے، پیش کیے گئے۔ ناموں کی تمام اراکین نے منظوری دیتے ہوئے بھرپور تائید کی۔ انتخابی عمل کے اختتام پر ریاستی سکریٹری مولانا عبدالجلیل قاسمی نے تمام نو منتخب عہدیداروں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ انہیں عظیم کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور خدمت کا جذبہ اور ہمت دے۔نو منتخب صدر مولانا مکرم نے کہا کہ جمعیۃعلماء ہند ایک تاریخی تنظیم ہے جس نے ملک کی آزادی میں اپنا خصوصی کردار ادا کرتے ہوئے عظیم قربانیاں دی ہیں انہوں نے حکومت کی طرف سے چلائے جارہے بلڈوزر پر اپنے رد عمل کو ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت چاہتی ہے۔ بلڈوزر چلا کر خوف پیدا کریں جو کہ غیر قانونی ہے۔ مولانا قاسمی نے کہا کہ سپریم کورٹ نے جمعیۃ علماء ہند کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے یکم اکتوبر 2024 تک بلڈوزر چلانے پر عبوری پابندی عائد کر دی ہے جو کہ عدالت کا خوش آئند فیصلہ ہے۔ انتخابی مشاہدین کی حیثیت سے انتخابی اجلاس کی صدارت کرنے والے مولانا عبدالجلیل قاسمی نے کہا کہ ہمارے علماء نے دارالعلوم دیوبند اور دیگر مدارس کی بنیاد رکھی اور جدوجہد آزادی کو بھرپور طریقے سے لڑا۔ مولانا نے کہا کہ ہمیں جمعیۃ علماء ہند جیسا پلیٹ فارم ملا ہے جو اپنی شاندار تاریخ کے لیے مشہور ہے۔ انہوں نے انتخابی عمل پر روشنی ڈالی۔ انتخابی اجلاس میں مولانا عبدالخالق نے ضلعی سکریٹری کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے ضلع بھر میں جمعیۃعلماء کی طرف سے کئے گئے کاموں پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ مولانا مکرم نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند کے ٹرم کی مدت دو سال ہے اور ہر دو سال بعد مدت پوری ہونے کے بعد ممبرسازی مہم چلائی جاتی ہے جو کہ 15 اگست 2024 کو مکمل ہو چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ ممبرسازی مہم ختم ہو نے کے بعد ملک بھر میں یونٹ کو مزید فعال اور مضبوط بنانے کے لیے اس انتخابی اجلاس کا انعقاد کیا گیا ہے۔ اس دوران سبھی یونیوں کے صدر اور دیگر عہدیداروں نے تائید کرتے ہوئے سبھی منتخب عہدیداران کو مبارکباد دی ۔ شرکاء میں محمد آصف قریشی بڈھانوی، مفتی آزاد، حافظ کامل،مولانا رضوان، قاری خالد، مفتی نشاط، حافظ شیردین، حافظ محمد اللہ مہر صدیقی، مولانا زبیر رحمانی، مولانا عبد الرحمٰن، مولانا شان محمد، مولانا عبدالقیوم، مولانا مدثر، حافظ کامل، مولانا اسرائیل، مولانا عمر اشرفی، مولانا حاتم، مولانا ضیاء الحق، مولانا عبدالقیوم، حافظ تحسین، مولانا مظہر، قاری محمد، حافظ ارشاد، مفتی دانش، مفتی مجیب الرحمن وغیرہ کے علاوہ سینکڑوں افراد موجود تھے۔












