فاروق تانترے
سرینگر ،سماج نیوز سروس: آپریشن سندور نے اپنا منافع ادا کر دیا ہے کی بات کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبد اللہ نے کہا کہ میرے خیال میں جنگوں کا کوئی سوال ہی نہیں ہے۔ جنگیں کوئی حل نہیں لاتی، وہ صرف مصیبتیں لاتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ لوگوں کو اُن عناصر اور دہلی میڈ پارٹیوں کی اصلیت سے بھی آگاہ کرانا ہے، جنہوں نے جموںو کشمیر کی خودمختاری، دفعہ370اور35اے کو اپنے حقیر مفادات کیلئے نیلام کردیا۔ تفصیلات کے مطابق نیشنل کانفرنس ضلع سرینگر کی مجلس عاملہ کا کا یک روزہ اجلاس پارٹی صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی صدارت میں پارٹی ہیڈکوارٹر نوائے صبح کمپلیکس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں پارٹی جنرل سکریٹری حاجی علی محمد ساگر، معاون جنرل سکریٹری چودھری محمد رمضان، وزیرا علیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی، صوبائی صدر ایڈوکیٹ شوکت احمد میر اور ورکنگ کمیٹی کے جملہ ممبران موجود تھے۔ اجلاس میں صدرِ نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ اپنے خطاب میں مجلس عاملہ کے ممبران پر زور دیا کہ وہ لوگوں کے ساتھ زمینی سطح پر تال میل رکھیں اور پارٹی کی مضبوطی کیلئے کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی نے ماضی میں بھی بہت سارے چیلنجوں کا سامنا کیا اور ہمیشہ سروخ رو ہوکر اُبھری ہے لیکن اس کے لئے عوامی حمایت لازمی ہے۔ ہماری جماعت نے ماضی میں عظیم مالی اور جانی قربانیاں دیکر جموںوکشمیر کو درپیش چیلنجوں کا سامنا کیاہے اور انشاء اللہ ہم موجودہ چیلنجوں میںبھی سروخرو ہوکر سامنے آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کی عوامی حکومت نے گذشتہ ڈیڑھ سال کے دوران جو تعمیرو ترقی کے کام انجام دیئے اور جو عوام مفاد فیصلے کئے گئے اُن کا اُجاگر کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ لوگوں کو اُن عناصر اور دہلی میڈ پارٹیوں کی اصلیت سے بھی آگاہ کرانا ہے، جنہوں نے جموںو کشمیر کی خودمختاری، دفعہ370اور35اے کو اپنے حقیر مفادات کیلئے نیالم کردیا۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کی شناخت، انفرادیت، پہچان اور کشمیریت کو زندہ رکھنے کیلئے نیشنل کانفرنس کا مضبوط سے مضبوط تر ہونا لازمی ہے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے پارٹی کے ممبرانِ اسمبلی کو ہدایت دی کہ وہ ہر وقت اپنے اپنے علاقوں میں حاضر رہے اور لوگوں کیلئے دستیاب رہیں۔بعد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے کہا کہ ’آپریشن سندور‘ نے اپنا منافع ادا کر دیا ہے، لیکن اس بات پر زور دیا کہ ’جنگیں کسی مسئلے کا حل نہیں لاتی۔ انہوں نے کہا ’’آپریشن سندور نے اپنا منافع ادا کر دیا ہے۔ میرے خیال میں جنگوں کا کوئی سوال ہی نہیں ہے۔ جنگیں کوئی حل نہیں لاتی، وہ صرف مصیبتیں لاتی ہیں۔ یوکرین اور وہاں کی تباہی کو دیکھیں، مشرق وسطیٰ کو دیکھیں۔ یہاں گیس (سپلائی) کی صورتحال دیکھیں۔ قطر کو گیس کی سپلائی بحال کرنے میں ایک یا دو سال لگیں گے۔ ‘‘ خلیج کی صورتحال کے بارے میں ایک اور سوال کے جواب میں سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دنیا جنگ کے لیے تیار نہیں ہے کیونکہ موجودہ معاشی حالات خراب ہیں۔انہوں نے کہا ’’گھبرائیں نہیں، دنیا جنگ کے لیے تیار نہیں، ہر ملک کے معاشی حالات پہلے ہی خراب ہیں، اور کوئی بھی ملک جنگ نہیں چاہتا، مشرق وسطیٰ میں تیل اور گیس کا زیادہ تر ذخیرہ ہے، اور اگر دباؤ جاری رہا تو دنیا کے حالات اتنے خراب ہوں گے کہ زندہ رہنا مشکل ہو جائے گا‘‘۔پنجاب میں دھماکوں کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں سابق مرکزی وزیر نے کہا کہ بھارت میں دھماکے ہوتے رہے ہیں اور کوئی نئی بات نہیں ہے۔ انہوں نے کہا ’’ آپ کو گھبرانا نہیں چاہیے۔ ‘‘












