رانچی (یو این آئی) جھارکھنڈ پردیش کانگریس کے انچارج غلام احمد میر کی قیادت میں ریاستی کانگریس صدر راجیش ٹھاکر سمیت سینئر لیڈروں نے آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے صدر ملک ارجن کھڑگے سے ملاقات کرکے انہیں جھارکھنڈ کے تناظر میں لوک سبھا انتخابات سمیت موجودہ سیاسی صورتحال کے بارے میں آگاہ کیا۔ اس سلسلے میں مسٹر میر نے ملک ارجن کھڑگے کو لوک سبھا انتخابات کے تناظر میں ہر سیٹ کے حالات سے آگاہ کرتے ہوئے تفصیلی بات چیت کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے الیکشن میں پہلے سے بہتر جدوجہد کی لیکن متوقع کامیابی حاصل نہ کر سکے ۔ جیت اور شکست کی وجوہات کا تفصیلی جائزہ لیں گے اور اس کے لیے 12 جون کو جائزہ اجلاس طلب کیا گیا ہے ۔ جس میں ہارنے والی سیٹوں کا نچلی سطح سے لے کر اوپری سطح تک مکمل جائزہ لیا جائے گا تاکہ ہم سے کہاں چونک ہوئی وہاں حالات کو سازگار بنایا جا سکے ۔ انہوں نے بتایا کہ لوک سبھا کے نتائج کے ساتھ ہی تنظیم جھارکھنڈ میں اسمبلی انتخابات کی تیاری میں سرگرم ہو گئی ہے ۔ جھارکھنڈ میں تنظیم کو مضبوط کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے اور آئندہ انتخابات تک تنظیم پوری طرح سے چست درست رہے گی۔ اس دوران مسٹر ٹھاکر نے کہا کہ عوام نے اس الیکشن میں ہماری قیادت کی ہے اور ہمیں کامیاب بنایا ہے اور ہم مستقبل میں بھی بہتر نتائج کے لیے لڑیں گے ۔ جھارکھنڈ کے عوام مکمل طور پر ہمارے ساتھ ہیں اور ان 5 برسوں میں مخلوط حکومت نے نامساعد حالات کے باوجود عوام کے مفاد میں بہتر فیصلے کرکے عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کی کوشش کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم وقتاً فوقتاً اپنے منشور کا جائزہ لیتے رہتے ہیں تاکہ اپنے منشور میں کئے گئے وعدوں کے مطابق عوامی مفاد میں فیصلوں کی نگرانی اور ان پر عملدرآمد کرتے رہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے سرنا دھرم کوڈ، او بی سی ریزرویشن، روزگار، کسانوں کی قرض معافی، پرانے پنشن سسٹم کو نافذ کرنے جیسے اعلانات مکمل کر لیے ہیں، لیکن کچھ بل مرکزی حکومت کی سطح پر زیر التوا رکھے گئے ہیں، اس کے لیے ہماری جدوجہد جاری ہے ۔ ہم جھارکھنڈ کے نئے اور سنگین مسائل کے ساتھ عوام کے درمیان جائیں گے ۔ ملاقات کرنے والوں میں بنیادی طور پر ریاستی کانگریس کے ورکنگ صدر پردیپ یادو، ایم پی کالی چرن منڈا، سکھ دیو بھگت، سابق ریاستی کانگریس صدر پردیپ کمار بالموچو، ایم ایل اے عرفان انصاری، بھوشن بڑا، اشوک چودھری، سلطان احمد، اقلیتی کانگریس کے صدر منظور احمد انصاری شامل تھے ۔












