دیوبند، 12؍ سماج نیوز سروس:ریاست اترپردیش میں 742سرکاری ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی ہونے جارہی ہے اور ا نہیں برخاست کرنے کی تیاری چل رہی ہے ۔ جانچ میں پایا گیا ہے کہ یہ ڈاکٹر بغیر بتائے اپنی ڈیوٹی سے کافی وقت سے غائب چل رہے ہیں ، محکمہ صحت نے ان کی فہرست حکومت کو بھیج دی ہے ، اب کسی بھی وقت ان کی خدمات ختم کی جاسکتی ہے۔ محکمہ صحت کے ڈائریکٹر کی جانب سے حکومت کو مکتوب ارسال کرکے ان پر کارروائی کی سفارش کی گئی ہے ۔ اس فہرست میں پانچ سال سے غیرحاضر چل رہے ڈاکٹروں کے نام ہیں ، لیکن سب سے زیادہ تعداد ایک یا دو سال سے غائب چل رہے ڈاکٹروں کی ہے ، فی الحال اب انہیں باہر کئے جانے کے بعد خالی ہوئے عہدوں پر نئی بھرتی کی بات کہی جارہی ہے ۔ محکمہ پہلے سے ہی ڈاکٹروں کی کمی سے پریشان ہیں ، 19700عہدوں کے مقابلے صرف 11000عہدے ہی بھرے ہوئے ہیں ۔ محکم ہ صحت کے ڈائریکٹر ڈاکٹر راجہ گنپتی آر نے بتایا کہ 742ڈاکٹروں کی فہرست حکومت کو بھیج دی گئی ہے ، ان ڈاکٹروں کو تین تین مرتبہ نوٹس جاری کئے گئے مگر ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا، ایسی صورت میں اب انہیں باہر کا راستہ دکھایا جائے گا، زیادہ تر ڈاکٹر بغیر اطلاع کئے ملازمت چھوڑ کر پرائیویٹ اسپتالوں میں چلے گئے ہیں۔ پرائیویٹ اسپتالوں میں یہ اچھی تنخواہ اور سہولیات کے لالچ میں سرکاری ملازمت چھوڑ کر گئے ہیں ، جانچ میں یہ بھی سامنے آرہا ہے کہ کچھ ڈاکٹر غائب ہونے کے باوجود اضلاع میں سی ایم او دفتر سے ساز باز کرکے تنخواہ بھی حاصل کررہے ہیں ، فی الحال اضلاع میں تعینات ڈاکٹروں کے مقابلے کتنے ڈاکٹر ڈیوٹی پر حاضر ہیں اور جو چھٹی پر چل رہے ہیں ان کی تفصیل لے کر ملان کیا گیا تو اتنی بڑی تعداد سامنے آئی ۔ 2010میں بھی اسی طرح تقریباً 180ڈاکٹروں کو برخاست کیا گیا تھا ، اس وقت جو فہرست تیار ہوئی تھی اس میں 10سال سے غائب چل رہے ڈاکٹروں کے نام شامل تھے ، اس وقت ان ڈاکٹروں کی سالانہ خفیہ تحقیق کی بنیاد پر ان پر کارروائی کی گئی تھی۔












