ایران:ایک سینئر ایرانی عہدے دار نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل پر میزائل حملے کا حکم رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای نے دیا تھا۔ ذمے دار کے مطابق گذشتہ ہفتے بیروت میں اسرائیلی فضائی حملے میں حسن نصر اللہ کی ہلاکت کے بعد سے خامنہ ایک محفوظ جگہ پر ہیں۔ مزید یہ کہ تہران کسی بھی اسرائیلی جوابی کارروائی کے لیے "پور طرح تیار” ہے۔ یہ بات ایک غیر ملکی خبر رساں ایجنسی نے بتائی۔
اس سے قبل منگل کی شب "ایکس” ویب سائٹ پر خامنہ ای کے اکاؤنٹ سے ایک وڈیو جاری کی گئی جس میں اسرائیل پر ایرانی حملے کے مناظر دکھائے گئے ہیں۔ وڈیو پر تبصرے میں کہا گیا ہے کہ "تہران اور خطے میں اس کے اتحادیوں (حزب اللہ اور حماس) نے قربانیاں پیش کیں تاہم وہ کامیاب ہوئے”۔
مذکورہ وڈیو کلپ میں ایرانی پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے سابق کمانڈر قاسم سلیمانی کے مناظر شامل ہیں۔ سلیمانی جنوری 2020 میں بغداد کے ہوائی اڈے پر ایک امریکی حملے میں ہلاک ہو گیا تھا۔ اس کے علاوہ وڈیو میں حماس کے سیاسی دفتر کے سابق سربراہ اسماعیل ہنیہ کو بھی دکھایا گیا جو 31 جولائی کو تہران میں موت کی نیند سلا دیے گئے۔ اسی طرح وڈیو میں حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کے مناظر بھی شامل ہیں جو 27 ستمبر کو بیروت کے جنوبی نواحی علاقے میں اسرائیلی بم باری میں مارا گیا۔
دو ماہ سے زیادہ عرصہ پہلے اسماعیل ہنیہ کی ہلاکت کے بعد سے تہران الم ناک جوابی کارروائی کی دھمکیاں دے رہا تھا تاہم یہ انتقام” گذشتہ روز سے پہلے دیکھنے میں نہ آ سکا۔
اس اثنا امریکا اور اسرائیل نے ایران کی جوابی کارروائی کے اثر کو کم کر دیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے باور کرایا ہے کہ اس کے دفاعی نظام نے میزائلوں کی اکثریت کو فضا میں ناکارہ بنا دیا۔
واضح رہے کہ با خبر ایرانی ذرائع نے پہلے بتایا تھا کہ حزب اللہ کی ہلاکت پر جواب دینے کے طریقہ کار کے حوالے سے ایرانی کیمپ کے اندر اختلافات ہیں۔ بالخصوص کئی ایرانی عہدے داران گذشتہ عرصے میں بارہا یہ باور کرا چکے ہیں کہ وہ تنازع کو وسیع کرنے کی کوشش نہیں کر رہے ہیں۔












