اردن:اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے فلسطینیوں کو ان کی سرزمین پر قائم کرنے کی ضرورت پر اردن کے "مضبوط” موقف کا اعادہ کیا ہے۔ یاد رہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلسطینیوں کو غزہ کی پٹی سے اردن اور مصر منتقل کرنے کے منصوبے کے بارے میں تجویز پیش کی ہے۔اردن کی شاہی عدالت کی طرف سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا کہ شاہ عبداللہ نے بدھ کے روز برسلز میں یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین، یورپی پارلیمنٹ کی صدر روبرٹا میزولا اور یورپی یونین کے صدر انتونیو کوسٹا سے الگ الگ ملاقاتوں میں دو ریاستی حل کے مطابق فلسطینیوں کو ان کی سرزمین پر قائم کرنے اور ان کے جائز حقوق حاصل کرنے کی ضرورت پر اردن کے مضبوط موقف پر زور دیا۔
اس سے قبل بدھ کو یہ مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے اس بات پر زور دیا کہ فلسطینی عوام کو ملک بدر کرنا یا بے گھر کرنا ایک ناانصافی ہے جس کا ہم حصہ نہیں بن سکتے۔ مصر نے امن اور دو ریاستی حل کے حصول کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کرنے کے ارادے پر زور دیا۔ٹرمپ کی جانب سے غزہ کی پٹی کے مکینوں کو بے گھر کرکے مصر اور اردن منتقل کرنے کی تجویز پر ردعمل کا سلسلہ جاری رہا اور عرب لیگ نے تصدیق کی کہ فلسطینی عوام کو ان کی سرزمین سے ہٹانے کی کوششیں ناقابل قبول اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔ مصری وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ قاہرہ فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے عارضی یا طویل مدت کے لیے منتقل کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرتا ہے۔ سات اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حماس کے حملے کے نتیجے میں شروع ہونے والی جنگ کی وجہ سے غزہ کی پٹی کے تقریباً 2.4 ملین باشندے بے گھر ہو گئے ہیں۔












