کانپور،سماج نیوز سروس : سابق قاضی شہر کانپور وصدر جمعیۃ علماء اتر پردیش مولانا محمد متین الحق اسامہ قاسمی رحمۃ اللہ علیہ کی قائم کردہ مشرقی اترپردیش کی عظیم دینی درسگاہ جامعہ محمودیہ اشرف العلوم جاجمئو کانپور میں طلباء کی نمائندہ انجمن ’انجمن جمعیۃ الاصلاح‘ کے زیر اہتمام سالانہ اختتامی اجلاس جامعہ کے ناظم اور جمعیۃ علماء اتر پردیش کے ناظم اعلیٰ مولانا امین الحق عبد اللہ قاسمی کی سرپرستی وصدارت اور ناظم تعلیمات مفتی سید محمد عثمان قاسمی کی نگرانی میں منعقد ہوا۔ جس میں طلباء نے اپنی تعلیمی و تربیتی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا اور اساتذہ کرام نے طلبہ کو اخلاص، للہیت اور احترامِ اساتذہ کی تلقین کی۔ اس موقع پر بطور مہمان خصوصی جامعہ میں تشریف لائے مدرسہ مظہر العلوم نکھٹو شاہ کے صدر المدرسین مفتی اقبال احمد قاسمی نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ اگر انسان عمل سے کھوکھلا اور دل تقویٰ سے خالی ہو تو بڑی سے بڑی تقریر اور علم بھی بے سود ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں نہ تو کتابوں کی کمی ہے، نہ جلسوں کی اور نہ ہی مدارس و علماء کی، اگر کسی چیز کا فقدان ہے تو وہ ”اخلاص“ اور ”اخلاق“ ہے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ اخلاص کی کمی اور اخلاق کے بگاڑ نے ہمیں ترقی کی راہ سے روک رکھا ہے۔ انہوں نے طلبہ کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ اپنے اندر استغناء پیدا کریں اور مالداروں کی چکا چوند سے مرعوب ہونے کے بجائے اللہ پر توکل کریں۔ مفتی صاحب نے زور دے کر کہا کہ طلبہ اپنے اساتذہ اور تعلیمی ادارے سے تادمِ زیست وابستہ رہیں، کیونکہ اساتذہ کا ادب اور ان کی بن مانگے خدمت ہی علم میں برکت کا ذریعہ ہے۔ حضرت عبد اللہ ابن عباسؓ کا واقعہ سناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ استاد کی خدمت اور ان کی ضرورت کو زبان سے ادا ہونے سے پہلے پورا کرنا سعادت مندی کی علامت ہے۔ جامعہ ہذا کے ناظم اور جمعیۃ علماء اتر پردیش کے ناظم اعلیٰمولانا امین الحق عبد اللہ قاسمی نے انجمن کی اہمیت اور افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ کورونا دور میں جو تعطل آیا تھا الحمد للہ اب وہ ختم ہو چکا ہے اور طلبہ میں نئی بیداری پیدا ہوئی ہے۔ انہوں نے تعلیم کے ساتھ ’تربیت‘ کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ محض تعلیم کافی نہیں بلکہ اس کے ساتھ اخلاقی تربیت اور ڈسپلن لازمی جز ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ ایک اچھا مقرر بننے کے لیے پہلے ایک اچھا سامع بننا ضروری ہے، دورانِ گفتگو پوری توجہ اور یکسوئی کے ساتھ بات سننا اور نشست و برخاست کے آداب کا خیال رکھنا ہی طالب علم کا زیور ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مدرسہ درحقیقت عمارتوں کا نہیں بلکہ اساتذہ کا نام ہے، کتابیں تو ہر جگہ مل سکتی ہیں لیکن استاد کی صحبت اور ان کا فیض مدرسہ کے ماحول میں ہی میسر آتا ہے، اس لیے طلبہ اپنے اساتذہ کی قدر کریں اور ان سے زیادہ سے زیادہ علمی استفادہ کریں۔اجلاس کے نگراں جامعہ کے ناظم تعلیمات مفتی سید محمد عثمان قاسمی نے دعائیہ کلمات سے طلبہ کی حوصلہ افزائی کی۔ اس موقع پر طلبہ نے مکالمے، تقاریر اور حمد و نعت کا بہترین مظاہرہ کیا۔اجلاس کا آغاز جامعہ کے طالب علم محمد حذیفہ کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ اجلاس کا اختتام مدرسہ کے سینئر استاذ مولانا نور الدین احمد قاسمی کی رقت آمیز دعا پر ہوا۔












