نئی دہلی 6/ نومبر,پریس ریلیز،ہمارا سماج:سپریم کورٹ آف انڈیا کی دو رکنی بینچ نے آج یہاں عمر قید کی سزا کاٹ رہے دو مسلم ملزمین کو ضمانت پر رہا کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے۔ ملزمین پر الزام ہے کہ انہوں نے 23/جولائی 2001ء کو مغربی بنگال کے شہر کولکاتہ کی مشہور جوتے کی کمپنی کے مالک روئے برمن کے اغواء کے معاملہ میں ملوث تھے نیز اغواء سے حاصل ہونے والی رقم کو انہوں نے کولکاتہ امریکن سینٹر پر ہوئے حملہ میں استعمال کیا تھا۔نچلی عدالت سے ملزمین کو عمر قید کی سزا ہوئی تھی جس کے بعد کولکاتہ ہائی کورٹ میں اپیل داخل کی گئی، ایک جانب جہاں کولکاتہ ہائی کورٹ نے اپیل سماعت کے لیئے قبول کرلی وہیں ملزمین کی ضمانت عرضداشتیں مسترد کرد ی تھیں۔ملزمین نور محمد عبدالمالک انصاری (ممبئی، مہاراشٹر) اور جلال ملا رشید ملا (مغربی پرگنہ، مغربی بنگال) کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امدا د کمیٹی نے صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پر سپریم کورٹ میں ضمانت پرر ہائی کی عرضداشت داخل کی تھی جس پر آج سماعت عمل میں آئی۔ سپریم کورٹ آف انڈیا کی دو رکنی بینچ کے جسٹس ابھئے ایس اوکا اور جسٹس پنکج متل کو ایڈوکیٹ گورو اگروال نے بتایا کہ اس مقدمہ میں نچلی عدالت نے ملزمین کو تا حیات عمر قید کی سزا سنائی ہے اس فیصلہ کے خلاف اپیل گذشتہ پانچ سالوں سے کولکاتہ ہائی کورٹ میں التواء کا شکار ہے اور اس بات کی کوئی گیارنٹی نہیں ہے کہ اپیل پر کب سماعت ہوگی۔
ایڈوکیٹ گورو اگروال نے عدالت کو مزید بتایاکہ ملزمین کو محض شک کی بنیاد پر مجرم قراردیا گیا ہے اور انہیں پختہ یقین ہے کہ وہ ہائی کورٹ میں اپنی بے گناہی ثابت کرنے میں کامیاب ہوں گے، لیکن ہائی کورٹ اپیلوں پر سماعت کرنے کے لیئے تیار نہیں ہے لہذا ملزمین مشروط ضمانت پر رہا کیا جائے۔انہوں نے عدالت کو مزید بتایا کہ ملزمین 16 سال سے زائد عرصے سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے مقید ہیں۔ملزمین کی ضمانت پر رہائی کی سرکاری وکیل نے سخت لفظوں میں مخالفت کی اور عدالت کو بتایا کہ اپیلوں پر تاخیر ملزمین کے وکلاء کی وجہ سے ہورہی ہے استغاثہ کی وجہ سے نہیں نیز ملزمین کو عمر قید کی سزا ایک سنگین معاملے میں ہوئی ہے لہذا ملزمین کو ضمانت رہا کرنے کی بجائے ہائی کورٹ کو اپیلوں پر جلد از جلد سماعت کیئے جانے کا حکم جاری کرنا چاہئے۔فریقین کے دلائل کی سماعت کے بعد جسٹس اوکا نے ملزمین کو ضمانت رہا کیئے جانے کا حکم دیا اوراپنے فیصلہ میں کہا کہ اپیلوں کی سماعت میں ہونے والی تاخیر کے لیئے ملزمین قطعی ذمہ دار نہیں ہیں نیز ماضی قریب میں ملزمین کی اپیلوں پر سماعت ہونے کے امکانات نہیں ہیں۔دو رکنی بینچ نے نچلی عدالت کو حکم دیا کہ وہ دو ہفتوں کے اندر ملزمین کی ضمانت پر رہائی کی شرائط طئے کرے نیز ہائی کورٹ کو حکم دیا کہ اپیلوں پر جلدا ز جلد سماعت کیئے جانے کے تعلق سے اقدامات کرے۔دوران سماعت ایڈوکیٹ گورو اگروال کی معاونت کرنے کے لئے ایڈوکیٹ شاہد ندیم، ایڈوکیٹ عارف علی خان، ایڈوکیٹ مجاہد احمد و دیگر موجود تھے۔ واضح رہے کہ اس مقدمہ میں پولس نے پہلے 22/ لوگوں کو گرفتار کیا تھا اور ان کے خلاف مقدمہ چلایا گیا تھا جس میں سے 17/ ملزمین باعزت بری ہوئے تھے اور بقیہ پانچ ملزمین کو 21/ مئی 2009ء عمر قید کی سزا ہوئی تھی لیکن مقدمہ ختم ہوجانے کے بعد پولس نے آٹھ دیگر ملزمین کو گرفتار کیا تھا اور ان کے خلاف تعزیزات ہند کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ قائم کیا تھا جن کے خلاف 65/ سرکاری گواہوں نے گواہی دی جس کے بعد علی پور جیل میں قائم خصوصی عدالت نے انہیں بھی عمر قید کی سزا سنا دی جس کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا تھا۔












