نئی دہلی ،ویلفیئر پارٹی آف انڈیا نے اتر پردیش میں لا قانونیت اور بد امنی کی سخت الفاظ میں مذمت کر تے ہو ئے وزیراعلیٰ یوگ
ی آدتیہ ناتھ کے استعفیٰ اور ریاست میں صدر راج کے نفاذ کا مطالبہ کیا۔ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کے قومی صدر ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے عتیق احمد اور ان کے بھائی محمد اشرف اور بیٹے اسعد کے دردناک قتل کی سخت الفاظ میں مذمت کر تے ہوئے کہا کہ یہ اقتدار کی سرپرستی میں ہو ئی دہشت گردی کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ انہوں نے اتر پردیش میں بڑھتی لاقانونیت، انارکی اور دن کی روشنی میں یو پی میں بڑھتی لا قانونیت اور قتل و غارت گیری کی سخت الفاظ میں مذمت کر تے ہو ئے کہا کہ اتر پردیش میں جرائم کی رفتار میں اضافہ کا سبب ہے کہ مجرمین کو اقتدار کی سرپرستی اور حمایت حاصل ہے۔ انہوں نے کہا اگر عتیق احمد جرائم میں ماخوذ تھا تو اس کو سزا دینے کے لئے ملک کا قانون اور عدالتی نظام موجود ہے۔ ہم ایک مہذب سماج میں رہتے ہیں نہ کہ جنگل راج میں۔ ہمیں ملک کے آئین اور قانون کی حکمرانی کا ہر حال میں احترام کر نا چاہیے۔ڈاکٹر الیاس نے کہا کہ اس طرح کے وحشیانہ قتل اور انکاؤنٹرس کے ذریعہ سے موجودہ بر سر اقتدار طبقہ ملک میں مذہبی فرقہ واریت اور بغض و عناد پر مبنی فضا کو پروان چڑھا رہا ہے۔ حزب ِاختلاف کے لیڈروں کے خلاف کاروائیاں، پسندیدہ سیاست دانوں کے جرائم کی پردہ پوشی، دہشت گردانہ کاروائیوں کی پشت پناہی، بڑھتی ہو ئی لا قانونیت اور مجرمین کی سرپرستی، اِن سب نے مل کر عالمی سطح پر ملک کی شبیہ کو بری طرح داغدار کیا ہے۔انہوں نے یوپی کے وزیر اعلیٰ سے فوری استعفیٰ کا مطالبہ کیا اور صدر جمہوریہ سے گزارش کی کہ یوپی میں فوری طور پر صدر راج نافذ کیا جائے۔انہوں نے سپریم کورٹ سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اس واقعہ کا سوموٹو نوٹس لے کر اپنی نگرانی میں ایک اعلیٰ سطحی جانچ کر وائے ۔
بھارتیہ مسلمانوں کی تنظیموں کے واحد وفاقی ادارہ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر فیروز احمد ایڈووکیٹ نے عتیق احمد اور ان کے بھائی اشرف احمد کے یو پی پولیس حراست میں دائیں بازو کے قاتلوں ،جنہوں نے اس وحشیانہ اورا سپانسر شدہ قتل کے بعد جئے شری رام کے نعرے لگائے تھے ،کی سخت مذمت کی ہے۔صدر مشاورت فیروز احمد نے کہا کہ مشاورت قانون کی بالادستی میں یقین رکھنے والے ان تمام اداروں و افراد کے ساتھ کھڑی ہے جو یوپی پولیس کی ناک کے نیچے اور بظاہر یو پی انتظامیہ کی لاپرواہی اور ملی بھگت سے ہوئے اس سرد خون کی بھی سخت مذمت کرتے ہیں۔صدر مشاورت نے کہا کہ پولیس حراست میں ہوئے سابق ممبر پارلیمنٹ کے بہیمانہ قتل نے اترپردیش میں امن و امان کی صورتحال، جو انارکی کی انتہا تک پہنچ گئی ہے، کے بارے میں بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے اور اس پر صدر جمہوریہ ہند کی فوری توجہ کی ضرورت ہے ،ساتھ ہی سپریم کورٹ کو اس قتل پر ازخود نوٹس لینا چاہیے تاکہ اس ماورائے عدالت قتل کے پس پردہ سازش کا پردہ فاش ہو سکے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ عدالت عظمیٰ کی جانب سے انکوائری کمیشن کی تشکیل ہو جو اس انتہائی گھناؤنا فعل کے پیچھے ملوث طاقتوں کا پردہ فاش کر سکے۔صدر مشاورت نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ حیرت کی بات ہے کہ یوپی انتظامیہ نے اعلیٰ افسران کو معطل کرنے کے بجائے صرف نچلے درجے کے پولیس اہلکاروں کو ہی ڈیوٹی میں غفلت برتنے کے الزام میں معطل کر دیا ہے اور یہ کہ مقامی افراد کی نگرانی میں کوئی بھی انکوائری ایک فضول اور’’لیپا پوتی‘‘ کرنے کی ایک فسانہ مشق ہوگی۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ موجودہ حالات میں وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے’’مٹی میں ملاد یں گے‘‘ کے ایجنڈے کے بیان کی بازگشت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اور عتیق احمد کے قتل کی ٹائمنگ بھی ایک سیاسی سازش لگتی ہے کیونکہ اس قتل کے بعد حکمراں جماعت کے کارکنان کے ذریعہ جس انداز میں آتش بازی کی گئی اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ ریاست میں بلدیاتی انتخابات میں فائدہ حاصل کرنے کے لیے فرقہ وارانہ پولرائزیشن کرنے کا عمل ہے۔












