• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
بدھ, جون 3, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

قیادت اور حفاظت،وقت کی ضرورت

مدثراحمد

Hamara Samaj by Hamara Samaj
فروری 27, 2024
0 0
A A
Share on FacebookShare on Twitter

ملک میں ایک کے بعد ایک مسجدوں پر فرقہ پرست طاقتیں قبضہ جمانے کی پوری کوششیں کررہی ہیں۔مسجدوں کے تحفظ کیلئے جہاں مسلمان حکومتوں سے اُمیدیں باندھا کرتے تھے،اُنہیں وہاں پر شدید نااُمید ہاتھ لگی،اس کے بعد مسلمانوں نے عدالتوں نے سے اُمید لگائی تو وہاں پر بھی مسلمانوں کو نااُمیدی ہی ہاتھ لگ رہی ہے،حالانکہ ملک میں ایک ایساقانون بھی ہے جس میں یہ کہاگیاہے کہ1947 سے پہلے جس جس کی عبادت گاہ،جس قوم کی تحویل میں ہیں،اُن عبادت گاہوں پرکوئی دوسرا اپنا ہونا کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔1992 میں بابری مسجدکی شہادت کے بعد یہ قانون نافذکیاگیاتھا،باوجوداس کے اس قانون پر عمل پیرائی نہ کہ برابرہورہی ہے۔
اس کی اہم وجہ یہ بھی ہے کہ اس وقت قانون کو نافذکرنے کیلئے جو عدالتیں موجودہیں،ان عدالتوں میں سنگھ پریوارکا قبضہ ہوتاجارہاہے۔سنگھ پریوارکے کارندے،وکیل،پولیس اور ججوں کے منصب پر فائزہیں۔کرناٹک کےشیموگہ ضلع کے تیرتھ ہلی تعلقہ میں مقامی عدالت کے جج نے گذشتہ دنوں دستورکو گیتا سے مشابہت کی،اس کے علاوہ انہیں جو تقریرکرنے کیلئے بلایاگیاتو وہ تقریرکے آغاز وانجام میں جئے شری رام کے نعرے پکارے۔اندازہ لگائیے کہ کس طرح سے عدالتوں میں سنگھ پریوارکی فکررکھنے والے ججس براجمان ہوچکے ہیں۔ملک کےجو موجودہ حالات ہیں وہ مسلمانوں کیلئے لمحہ فکرہیں،مسلمانوں کواب اپنے طورطریقوں پر مزید تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔سب سے پہلے تو مسلمان کسی ایک حکومت کی آڑمیں آکر اس قدرپُراُمید نہ ہوجائیں کہ ان کے اوقافی اداروں،مساجد،مدرسوں اور خانقاہوں کے تحفظ کیلئے کوئی حکومت آگے آئیگی اور حکومتوں کا بھروسہ ہی کیا کیاجاسکتاہے،آج یہ اِدھر تو کل اُدھرکا رخ کرتے ہیں۔کبھی ہندوتوا کی مخالفت کرتے ہیں تو کبھی نرم ہندوتواکی تائیدمیں اُترآتے ہیں،مسلمانوں نے اب تک ایسے ہی دھوکہ کھایاہے۔سیاستدانوں کی چکنی چپٹی باتوں پر بھروسہ کرتے ہوئےکبھی اپنے مستقبل کو مستحکم بنانے کی فکرنہیں کی،جس وقت مسجدوں،مدرسوں کے دستاویزات کو مضبوط کرانے کا موقع ملاتھا،اُس دوران تومسلمانوں نے یہ کہہ خاموشی اختیارکرلی تھی کہ ہماری حکومت ہے،ایسے میں ہم کون انگلی اٹھائیگا؟کس کے پاس دم ہے کہ مسلمانوں کی مسجدوں پر آنکھ اٹھا کر دیکھے؟۔
ا س طرح کے اوور کانفیڈنس بیانات نے مسلمانوں کو آج بیچ چوراہوں پر لاکھڑاکیاہے،جہاں پر نہ حکومتیں ان کی سن رہی ہیں،نہ عدالتوں میں ان کی چل رہی ہے۔اس وقت بھی مسلمانوں کی مسجدیں،مدرسے ایک طرح سے غیر محفوظ ہیں،مسلمان اپنی عبادت گاہیں تو عالیشان ،زبردست وخوبصورت بنالیتے ہیں مگر ان عبادت گاہوں اور درسگاہوں کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے نہ ان کے دستاویزات درست ہوتے ہیں نہ ہی ان کی آمدنی کاحساب وکتاب کا کوئی پتہ ہوتاہے۔آج جو مسجدیں تعمیرکی جارہی ہیں،تیس چالیس سال بعدیہ قدیم مسجدیں کہلائینگی،اُس وقت بھی ملک میں حالات مزید فتنہ برپانےوالے ہونگے،تو کیا اُس وقت کی نسلیں ان مسجدوں کو بچاپائینگی؟۔ضرورت اس بات کی ہے کہ آج جو مسجدیں ہمارے درمیان موجودہیں،اُن مسجدوں کو تحفظ فراہم کرنے کیلئےقانونی طورپر تیاری کرنی ہوگی۔دوسری اہم بات یہ ہے کہ مسلمان اپنی نسلوں کو صرف پیسہ کمانے کی دوڑلگانے کے بجائےایسے شعبوں میں نمائندگی کرنے کیلئےتیارکریں،جس میں عدلیہ ،انتظامیہ اور میڈیا شامل ہے،جب تک ان تینوں شعبوں میں مسلمانوں کی معقول نمائندگی نہیں ہوتی،اُس وقت تک ہم غیر وں سے انصاف کی اُمیدنہیں رکھ سکتے۔
گذشتہ دنوں کیرلاکےمرکزمیں تعلیم حاصل کرنےوالے پچاس سے زائد طلباء نے وکالت کی ڈگری حاصل کرتے ہوئے وکالت کے پیشے کو اختیارکیاہے،یہ وکلاء مدرسوں کے فارغین ہیں اور مستقبل کو دیکھتے ہوئے اے پی استادکے ماتحت چلنےوالے ان مدرسوں سے فارغ ہونےوالے یہ نوجوان وکیل بن چکے ہیں۔وہیں دوسری جانب مسلمانوں کے دوسرے مدارس میں قابل اور باصلاحیت طلباء کے ہوتے ہوئے بھی یہ طلباء فراغت حاصل کرنے کے بعد یاتو محض امامت وتدریس کے شعبے سے جڑجاتے ہیں یاپھر معمولی پیشوں کو اختیارکرلیتےہیں۔ جس طرح کی صلاحیت فارغین مدارس میں ہوتی ہے وہ صلاحیتیں شائدہی دوسرے طلباء میں ہوتی ہے۔اسلام صرف مسجدوں اور مدرسوں تک محدودنہیں ہے بلکہ اسلام زندگی کے ہر شعبے میں موجودہے،جب تک مسلمانوں کی نمائندگی سماج کےتمام شعبوں میں دینداروں کے ذریعے سے نہیں ہوتی،اُس وقت تک اچھے سماج کی بنیادرکھنا ممکن نہیں ہے۔اس مضمون کا اخذ یہی ہے کہ مسلمانوں کو پہلے تو اپنے مسجدوں،مدرسوں اور اوقافی اداروں کے دستاویزات کو درست کرنے کی پہل کرنے کیلئے آگے آناچاہیے،دوسرا کام دیندار اور فارغینِ مدارس کے علاوہ مسلمانوں کی نئی نسل سماج کے ہر شعبے میںقیادت کیلئے آگے آئے۔

 

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    شہریوں کو کتوں کے حملوں سے محفوظ ماحول میسر ہو

    شہریوں کو کتوں کے حملوں سے محفوظ ماحول میسر ہو

    مئی 20, 2026
    کڑکڑڈوما کورٹ سے عمر خالدکو شدید جھٹکا

    کڑکڑڈوما کورٹ سے عمر خالدکو شدید جھٹکا

    مئی 20, 2026
    قربانی کے موقع پر تنازع سے بچنا چاہئے

    قربانی کے موقع پر تنازع سے بچنا چاہئے

    مئی 20, 2026
    جب چھپانے کیلئے کچھ نہیں ہے تو ڈرنے کی کوئی بات نہیں :راہل

    جب چھپانے کیلئے کچھ نہیں ہے تو ڈرنے کی کوئی بات نہیں :راہل

    مئی 20, 2026
    شہریوں کو کتوں کے حملوں سے محفوظ ماحول میسر ہو

    شہریوں کو کتوں کے حملوں سے محفوظ ماحول میسر ہو

    مئی 20, 2026
    کڑکڑڈوما کورٹ سے عمر خالدکو شدید جھٹکا

    کڑکڑڈوما کورٹ سے عمر خالدکو شدید جھٹکا

    مئی 20, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist