صادق شروانی
نئی دہلی،دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر وی کے سکسینہ نے دہلی سرکار کوایک ساتھ دوجھٹکے دئےے ہیں جہاںآج نومنتخب کونسلروں کوعہدے کا حلف اور میئر ڈپٹی میئر سمیت دیگر کمیٹیوں کا انتخاب ہونا تھا ۔سیاست میں بھر پور گہماگہمی تھی اسی درمیان ایل جی نے دہلی حج کمیٹی کی اچانک تشکیل کردی۔ انہوںنے کجریوال حکومت کی جانب سے بھیجی گئی فائل کو ردّ کرتے ہوئے اپنی نئی کمیٹی کو منظوری دے دی ۔دہلی حج ایکٹ کے مطابق ایم پی کوٹے سے مشرقی دہلی سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ممبر پارلیمنٹ گوتم گمبھیر ،ممبران اسمبلی کے طو رپرعام آدمی پارٹی کے سیلم پور ممبر اسمبلی عبدالرحمن ، مصطفی آباد ممبر اسمبلی حاجی یونس ، جبکہ کارپوریشن کوٹے سے کانگریس کی کونسلر نازیہ دانش (ذاکر نگر) جبکہ اسلامی اسکالر کے طو رپر محمد سعید اور مسلم سماجی کارکن کے طور پرکوثر جہاں کو منتخب کیاگیا ہے۔ چیئرمین کے انتخاب کےلئے باقاعدہ الیکشن ہوگا جس میں کامیاب ہونے والے امیدوار کو دہلی حج کمیٹی کی کمان سونپی جائے گی۔ جہاں عام آدمی پارٹی اپنا میئر اورڈپٹی میئر بنانے میں مشغول تھی تو وہیں ایل جی نے اپنی منشا کی حج کمیٹی تشکیل دے دی ۔ جس کے بعد کجریوال سرکار نے کہا ہے کہ بھارتیہ آئین کی جم کر دھجیاں اڑائی جارہی ہیں وزیراعظم نریندر مودی اور دہلی کے ایل جی اپنی من مرضی کے مطابق قانون کونافذ کررہے ہیں جو کام دہلی حکومت کا ہے اس کام کو ایل جی خود سے ہی کررہے ہیں۔ پتہ چلا ہے کہ کجریوال حکومت کی جانب سے دہلی حج کمیٹی کی تشکیل جو فائل بھیجی گئی تھی اس میں ایم پی کوٹے سے ممبر پارلیمنٹ سنجے سنگھ اور ممبر کے طو رپر مختار احمد سابق چیئرمین دہلی سمیت ممبران اسمبلی عبدالرحمن اور حاجی یونس کا نام تھا لیکن اس فائل کو ایل جی نے نظر انداز کرتے ہوئے اپنی مرضی کی دہلی حج کمیٹی بنادی ہے بتایا جاتا ہے کہ گوتم گمبھیر سمیت دیگر دو ممبران بھی سیدھے طو رپر بی جے پی سے وابستہ ہیں ۔ جبکہ وارڈ نمبر 189ذاکر نگر سے نومنتخب کونسلر نازیہ دانش جو کانگریس کی ہیں ایل جی ان کو چیئرپرسن بنانا چاہتے ہیں اس طرح کی باتیں اور جانکاریاں سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہیں۔ حالانکہ ایل جی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے دعوی کیاگیا ہے کہ سبھی کو نمائندگی دینے کی کوشش کی گئی اور ایک بہترین دہلی حج کمیٹی کی تشکیل ہوئی ہے جس میں نوجوانوں کو موقع دیاگیا ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق عام آدمی پارٹی کی سرکار اس فیصلے خلاف عدالت کا رخ کرے گی۔ بتایا جاتا ہے کہ سماجی کارکن اور اسلامی اسکالر بھارتیہ جنتا پارٹی سے وابستہ رہے ہیں۔












