بلال بزاز
سرینگر،سماج نیوز سروس: جموں و کشمیر میں حد بندی کی مشق صرف اور صرف بی جے پی اور اس کے اتحادیوں کو فائدہ پہنچانے کیلئے کی گئی ہے کا الزام عائد کرتے ہوئے وزیر اعلی عمر عبداللہ نے کہا کہ بی جے پی کے سیاسی ارادوں کا پردہ فاش ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح بی جے پی کے ارادے واضح ہو جاتے ہیں۔تفصیلات کے مطابق سرینگر میں میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ نے کہا کہ حد بندی صرف بی جے پی اور اس کے اتحادیوں کے حق میں ہے ۔ انہوں نے کہا ’’ ہمیں ان کی حد بندی کی وجہ سے نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اور ہم جانتے ہیں کہ کس طرح حد بندی کی گئی تھی۔ یہ صرف بی جے پی اور اس کے اتحادیوں کو فائدہ پہنچانے کیلئے کیا گیا تھا۔ اب دیکھتے ہیں کہ آگے کیا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے واقعات سے بی جے پی کے سیاسی ارادوں کا پردہ فاش ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح بی جے پی کے ارادے واضح ہو جاتے ہیں۔دیگر ریاستوں میں سیاسی پیش رفت کا حوالہ دیتے ہوئے عمر عبد اللہ نے کہا’’ایکناتھ شندے اس لیے چلے گئے کیونکہ بی جے پی نے اس کی مدد کی تھی۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ یہ واضح ہے کہ اپوزیشن لیڈر جموں و کشمیر میں اقتدار سنبھالنے کیلئے بے چین تھے۔ انہوں نے کہا ’’ یہ ظاہر ہے کہ حزب اختلاف لیڈر جموں و کشمیر میں وزیر اعلیٰ کی کرسی پر قبضہ کرنے کیلئے بے چین ہے۔ میں صرف ایل او پی سے یہی کہوں گا۔ ‘‘ عمر عبد اللہ نے زور دے کر کہا کہ نیشنل کانفرنس میں کوئی اندرونی تقسیم نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس میں ایک ناتھ شندے نہیں ہیں۔ نیشنل کانفرنس کے تمام ممبران اسمبلی مضبوطی سے پارٹی کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کابینہ کی توسیع ریاست کی عدم موجودگی کی وجہ سے تعطل کا شکار ہوگئی تھی۔ انہوں نے کہا ’’ کابینہ کی توسیع میں تاخیر ہوئی ہے کیونکہ جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ نہیں دیا گیا ہے، یہ خوف کی وجہ سے نہیں رکا ہے۔ ‘‘ وزیر اعلیٰ نے الزام لگایا کہ جموں و کشمیر کو صحیح طریقے سے کام کرنے یا ریاست کا درجہ دوبارہ حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی جب تک کہ بی جے پی حکومت نہیں بناتی۔ انہوں نے کہا کہ اسی لیے میں بار بار کہتا ہوں کہ ایل او پی اپنے بیانات سے ثابت کرتی ہے کہ جب تک بی جے پی حکومت نہیں بناتی، وہ نہ تو ہمیں صحیح طریقے سے کام کرنے دیں گے اور نہ ہی جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ بحال کریں گے۔انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ ریاست کے ارد گرد کے سیاسی بیانیے کو سمجھیں اور اپوزیشن پر ’’بلیک میل سیاست ‘‘میں ملوث ہونے کا الزام لگایا۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے لوگوں کو، خاص طور پر جنہوں نے گزشتہ انتخابات میں بی جے پی کو ووٹ دیا تھا اور انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ ایل او پی اور اس کی پارٹی بلیک میل کی سیاست میں ملوث ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ لوگوں کو ریاست کے نام پر دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔آئینی دفعات اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے عمر عبد اللہ نے کہا کہ انتخابات کے بعد واحد سب سے بڑی پارٹی کو حکومت بنانے کے لیے مدعو کیا جانا چاہیے اور اسے اسمبلی کے فلور پر اپنی اکثریت ثابت کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اگر ہم سپریم کورٹ کے فیصلوں پر چلتے ہیں تو ایسے حالات میں صدر کا راج نہیں ہونا چاہیے۔ کئی ایسے معاملات ہیں جن میں سپریم کورٹ نے واضح طور پر کہا ہے کہ انتخابات کے بعد واحد سب سے بڑی پارٹی کو حکومت بنانے کی دعوت دی جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایسی جماعتوں کو اسمبلی میں اپنی اکثریت ثابت کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کی 13 روزہ حکومت کا حوالہ دیتے ہوئے عمر عبد اللہ نے کہا کہ آئینی طریقہ کار پر ہمیشہ عمل کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا ’’ یہ وہی ہوا جب اٹل بہاری واجپائی نے 13 دن کی حکومت بنائی۔ ہندوستان کے صدر نے انہیں اپنی تعداد ظاہر کرنے کا انتظار کیے بغیر حکومت بنانے کی دعوت دی۔ 13 دن کی حکومت قائم ہوئی۔ ‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ واجپائی نے بعد میں اکثریت حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد استعفیٰ دے دیا۔ عمر عبد اللہ نے کہا کہ جب واجپائی کے پاس مطلوبہ نمبر نہیں تھے تو انہوں نے استعفیٰ دے دیا۔انہوں نے کہا کہ جمہوری عمل کو روکنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت سازی کے لیے مدعو کیے گئے کسی بھی رہنما کو اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنے کی اجازت ہونی چاہیے اور اگر ایسا نہ کر سکے تو مستعفی ہو جانا چاہیے۔












