نئی دہلی،سماج نیوز سروس:دہلی کی معروف دینی و عصری تعلیمی درسگاہ مدرسہ باب العلوم، جعفر آبادمیں یومِ جمہوریہ بڑے ہی تزک و احتشام کے ساتھ منایا گیا۔ اس موقع پر عام آدمی پارٹی کے ممبر اسمبلی چودھری زبیر احمد اور دہلی حج کمیٹی کے سابق چیئرمین ڈاکٹر پرویز میاں نے بطور مہمانانِ خصوصی شرکت کی اور قومی پرچم لہرایا۔ پروگرام کی نگرانی مولانا اویس احمد رشیدی (مہتمم مدرسہ باب العلوم) نے کی، جبکہ نظامت کے فرائض مولانا جاوید صدیقی قاسمی نے بحسن و خوبی انجام دیے۔ چودھری زبیر احمد نے کہا کہ 15 اگست اور 26 جنوری بڑے جوش و خروش کے ساتھ منائے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملک ہم سب کا ہے اور آزادی کی جدوجہد میں ہندوستانی علماء نے فتوے جاری کر کے اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ سرزمین ہمارے آباؤ اجداد کی ہے اور ہندو و مسلمان صدیوں سے مل جل کر رہتے آئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یومِ آزادی اور یومِ جمہوریہ مسلم اکثریتی علاقوں میں بھی پورے جوش و جذبے کے ساتھ منائے جاتے ہیں۔مدارس کے طلبہ کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قرآنِ کریم حفظ کرنا ایک عظیم کارنامہ ہے، اور اگر اس کے ساتھ وہ ڈاکٹر، انجینئر، وکیل یا ایم بی بی ایس بھی بن جائیں تو یہ اور بھی قابلِ ستائش بات ہوگی، کیونکہ ایسے افراد اللہ کے خوف کے ساتھ بہتر طور پر قوم و ملک کی خدمت کر سکتے ہیں۔ انہوں نے مدرسہ باب العلوم کے بانی حضرت مفتی ظفرالدین رحمہ اللہ کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ جب مدرسہ میں کمپیوٹر سینٹر قائم ہوا تھا تو وہ اپنے والد چودھری متین کے ساتھ وہاں آئے تھے۔ انہوں نے اپنی دیرینہ خواہش کا اظہار کیا کہ مدرسہ کا طالب علم حافظِ قرآن بھی بنے اور ڈاکٹر بھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ مدرسہ جو کبھی تعلیم کا ایک ننھا سا پودا تھا، آج ایک عظیم ادارہ بن چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک کا آئین غریبوں کی مدد اور پسماندہ بچوں کی تعلیم کو یقینی بنانے کے لیے بنایا گیا ہے۔ڈاکٹر پرویز میاں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ نے فرمایا کہ جس ملک میں رہو اس کے وفادار بن کر رہو۔ انہوں نے کہا کہ علماءِ دین نے ملک کے لیے بے مثال قربانیاں پیش کیں، علی گڑھ سے لاہور تک علماء کو شہید کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں نے کسی کے کہنے پر نہیں بلکہ اپنی مرضی سے ترنگے کو سلام کیا اور آزادی کے بعد ہندوستان میں رہنے کو ترجیح دی۔ ہمارے بزرگوں نے ہمیشہ ہندو مسلم بھائی چارے پر زور دیا، اور جنگِ آزادی کی پہلی آواز میوات سے اٹھی تھی۔












