ارریہ، ( مشتاق احمد صدیقی ) مولانا مبارک حسین ندوی صاحب کی خلوصیت، للہیت، سعی مسلسل اور جہد پیہم کی بنیاد پر بہت ہی قلیل مدت میں عوام الناس کا محبوب و ہر دل عزیز اور امتیازی شان سے مزین تعلیمی و تربیتی ادارہ” مدرسہ الکتاب والسنۃ، کرنکیا، ارریہ کےاحاطہ میں نمونہ اسلاف پیر طریقت عارف باللہ حضرت اقدس مولانا ڈاکٹر سعید الرحمٰن الاعظمی دامت برکاتہم العالیہ، ناظم عمومی دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کی روحانی صدارت اور مولانا مبارک حسین بانی و مہتمم”مدرسہ الکتاب والسنۃ” کرنکیا ارریہ کی حسن نظامت میں بڑے تزک و احتشام کے ساتھ”تکمیل حفظ قران” کی مجلس منعقد ہوئی، جس میں بانسبت و با فیض شخصیات حضرات علماء کرام، ائمہ عظام، مفتیان کرام سمیت مضافات ارریہ شہر سے عوام الناس کی بڑی تعداد نے حد درجہ عقیدت و محبت کے ساتھ”تکمیل حفظ قرآن پاک” کی مجلس میں شرکت کیں اور قرآن کریم کی تلاوت سماعت فرماکرفیوض و برکات اور سعادت حاصل کیں اور تمام شرکاء نے اپنی ذات کو دارین کی سعادتوں سے مالا مال کیا۔ صدارتی کلمات کے تحت صدرِ مجلس نے اپنے مختصر تاثراتی گفتگو میں ادارے کی حسن کارکردگی پر دلی مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ علمی گہوارہ چند سال قبل پھونس پر مشتمل تھا لیکن آج یہ ادارہ روز افزوں ترقی کی جانب گامزن ہے اور علاقے کے نونہالوں کی خوب سے خوب تر دینی آبیاری کا مذہبی فریضہ انجام دے رہا ہے۔ ادارہ کے بانی اور مہتمم مولانا مبارک حسین ندوی، اساتذہ کرام اور طلبہ عزیز کی خوب ستائش کی اور فرمایا کہ یہاں آکر اتنی بڑی تعداد میں طلبہ عزیز اور عمدہ تعلیم و تربیت کے نظام کو دیکھ کر قلبی مسرت ہوئی ۔انہوں نے اس حسنِ کارکردگی پر ادارے کے ناظم اعلیٰ کے ساتھ سبھوں کو خوب مبارکباد پیش کی اور موصوف نے مختلف حلقے سے آئے ہوئے عوام و خواص سے اپنے پرمغز خطاب میں فرمایا کہ آپ خوش نصیب ہیں کہ مدارس دینیہ سے وابستہ ہیں ،یاد رکھئے کہ مدارس کا تعلق اسلام سے لازم و ملزوم ہے اور اس کے بغیر تحفظ اسلام کا تصور ممکن نہیں ۔انہوں نے مدارس کی اہمیت کے حوالے سے فرمایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے بعد قیام مکہ میں جب مذہب کے ساتھ اہل ایمان کی جانوں پر شدید خطرات تھے اور عبادت کے لئے مسجد کی تعمیر تک کی اجازت نہیں تھی تب بھی”دار ارقم” میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دین و مذہب کے لئے مدرسہ قائم فرمایا تھا ۔ہمیں بھی چاہیے کہ ان مدارس کے تحفظ و بقاء اور استحکام کے لئے ہرممکن اقدامات کریں! اور کسی بھی حال میں انہیں کمزرو نہ ہونے دیں! پھر صدرِ مجلس نے ان حفاظ کرام تصویر عالم بن محمد ابراہیم فیاض عالم بن سرفراز عالم، محمد طارق بن محمد اکبر محمد وزیر بن محمد عاصم، شمیم اختر بن ابو الحسن، طارق بن رفیق عالم اور دلشاد بن پرویز عالم کے حفظ قرآن کریم کی تکمیل کروایا پھر ان خوش نصیب حفاظ کرام کو مہمانانِ عظام کے مبارک ہاتھوں سے گراں قدر تحائف پیش کئے گئےختتامی کلمات کے تحت "مدرسہ الکتاب والسنۃ” کرنکیا ارریہ کے بانی اور مہتمم نے ادارہ کے متعلق جو ایک کمرہ سے شروع ہوکر قرآنی مرکز تک کاجو سفر طے کیا ہے، اس سلسلے میں آپ نے کہا کہ اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ دینی ادارے وسائل کے بغیر پنپ نہیں سکتے، مگر سیمانچل کے پسماندہ علاقے میں قائم مدرسہ الکتاب والسنہ اس خیال کی عملی تردید ہے۔ یہ ادارہ 13 ستمبر 2013ء کو اس ناچیز نے خالص توکل علی اللہ کے ساتھ ایک مختصر کمرے میں شعبۂ حفظ کے طور پر قائم کیاتھا، نہ زمین میسر تھی، نہ مالی وسائل، نہ کسی بڑی سرپرستی کا سہارا، ابتدا میں پچیس طلبہ تھے، جن کے قیام کے لئے بانس اور گھاس کی ٹٹیوں کی کا استعمال گیا تھا، مگر نیت کی پختگی نے راستے خود ہموار کر لیے۔ آج بارہ برس بعد، ادارہ الحمد للہ پانچ پختہ کمروں، ایک پختہ مسجد اور تقریباً بیس کٹھا زمین کا مالک ہے۔ اب تک تقریباً بیس حفاظِ قرآن تیار ہو چکے ہیں اور اس وقت ایک سو سے زائد طلباء زیرِ تعلیم ہیں۔ مدرسہ الکتاب والسنہ کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ سیمانچل کے عمومی رواج کے برخلاف یہاں آغاز ہی سے طلباء کے لیے ہاسٹل میں قیام و طعام کا مستقل اور منظم انتظام قائم کیا گیاہے، جو ادارے کی فکری سنجیدگی اور انتظامی شعور کی علامت ہے۔ ادارہ کی تعلیمی و تربیتی ترقی کے ساتھ تعمیراتی ترقی اور انفرا اسٹرکچر اس بات کا ثبوت ہے کہ اخلاص، استقامت اور مسلسل محنت وسائل کی کمی پر غالب آجاتی ہے۔ مگر بروقت ادارۂ ھذا اب ایسے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں طلباء کی بڑھتی ہوئی تعداد اور جاری تعمیری منصوبوں کے لئے اہلِ خیر حضرات کے تعاؤن کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ اس لئے بالعموم پورے ملک اور بالخصوص علاقے کے مخیرین حضرات سے گزارش ہے کہ دامے درمے اس ادارہ کی نصرت اور امداد فرمائیں! کیوں کہ قرآن کریم کی تعلیم میں کہا گیا ہے کہ ہر تعاؤن صدقۂ جاریہ ہے، جس کا ثواب نسلوں تک پہنچتا ہے اور بعد مرگ بھی اس کااجر جاری وساری رہےگا۔ آپ نے آخر میں اپیل کرتے ہوئے کہا کہ”مدرسہ الکتاب والسنہ” کی تعلیمی و تعمیری سرگرمیوں میں تعاؤن کے خواہش مند حضرات براہِ راست ناظمِ مدرسہ یعنی اس ناچیز سے رابطہ کریں یا اپنے عطیات و تعاؤن کے ذریعے اس قرآنی مشن کا حصہ بنیں۔ ان شاءاللہ آپ اہلِ خیرحضراتکی نصرت اور امداد سے یہ ادارہ مستقبل میں علاقے کے لیے علمِ قرآن کا ایک مضبوط اور باوقار مرکز اور قلعہ ثابت ہو گا، اس لئے تغاؤن سے قبل اس نمبر 8789469105 پر رابطہ کر سکتے ہیں ۔












