نئی دہلی ، مدارس اسلامیہ مسلمانوں کی شناخت اور مذہب اسلام کی ترویج و ترقی کی ضمانت ہیں مگر نت نئی سازشوں کا شکار ہیں۔ ساشوں کو ناکام کرنا مسلمانوں کی ذمہ داری ہے اور یہ تبھی ممکن ہے کہ جب مسلمان مدارس اسلامیہ سے اپنا رشتہ مضبوط کرکے ان کی جملہ ضرویات کو پورا کریں ۔ بچوں کو مدرسوں میں بھیجیں تاکہ ہر گھر میں ایک حافظ قران ہو اورپھر عصری تعلیم حاصل کی جائے جس کیلئے کوئی ممانعت نہیں کیونکہ دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم کی حصولیابی موجودہ حالات کا تقاضہ ہے اور یہ کام جامعہ عربیہ بیت العلوم بحسن خوبی انجام دے رہا ہے ۔ان خیالات کا اظہار علما کرام نے جعفرآباد میں واقع جامعہ عربیہ بیت العلوم کے منعقد ہ سالانہ جلسہ دستار بندی میں دوران خطاب کیا۔اس جلسہ کی صدارت مفتی محمد راشد اعظمی(نائب مہتمم دارالعلوم دیو بند)و نظامت مولانا محمود الحسن غفاری(ناظم تعلیمات جامعہ عربیہ بیت العلوم جعفر آباد )نے کی جبکہ آغاز قاری محمد فاروق کی تلاوت و قاری عبدالباطن فیضی اور قاری علی اکبر کے نعتیہ کلام سے ہوا۔اسی اثنا علما کرام کے ہاتھوں8 بچے دورہ حدیث ،7بچے شعبہ تجوید اور 26بچے درجہ حفظ سے فارغ ہونیوالوں کی دستار بندی کی گئی اور سبھی بچوں کو بطور انعام ایک ایک جوڑی کپڑے ، رومال ، ٹوپی ،جائے نماز اور 500,500روپے نقد دیے گئے ۔اس موقع پر مفتی محمد راشد اعظمی نے کہا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو قیامت تک باقی رکھنے کی دعا کی اور قبول ہوئی لہذا اہل مدارس کوپریشان ہو نے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ قرآن بھی رہے گا ،اسلام بھی اور مدرسے بھی مولانا منیرقاسمی (استاد حدیث وقف دارالعلوم دیوبند) نے کہا کہ اپنی پوری زندگی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق گزارنے میںہی کامیابی ہے لیکن اللہ و رسول کے بتائے ہوئے راستہ سے ہٹ کر دنیا کی چکا چوند میں گم ہو گئے تو دونوں جہان میں ناکامی ہے ۔آخر میں بانی و مہتمم مولانا قاری عبدالغفار نے سبھا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے دینی و عصری تعلیمی نظام سے عوم کو روشناس کرا یا جس کی علما کرام نے ستائش کی ۔اختتام مفتی محمد راشد اعظمی کی رقت آمیز دعا پر ہوا۔اس موقع پرمولانا حسین احمد قاسمی،مولانا افتخار مدنی ، مولانا ضیا ءاللہ ، ایس کریم، مولانا ولی اللہ قاسمی ، مولانا امان اللہ، مولانا محمد جمشیدعالم(ناظم تعلیمات بیت العلوم مصطفی آباد)،قاری محمد عارف قاسمی ،مولانا احمد حسین قاسمی،مولانا جاوید قاسمی،مفتی عبدالرافع، عبدالغفار، مولانا امیرالدین قاسمی، قاری داؤد، قاری محمدعمر،قاری سہیل اختر،قاری حامدحسن کے علاوہ بڑی تعداد میں فرزندان توحید موجود تھے۔












