بیدر، 24؍مئی، سماج نیوز سروس:دہم جماعت کے نتائج9؍مئی کو آچکے ہیں۔ اوراسی دن سے مسلسل استفسار کیاجارہاتھاکہ مولانا آزاد انگلش میڈیم سرکاری ہائی اسکول کے نتائج کیاہیں؟محکمہ اقلیتی بہبود کے ڈائرکٹوریٹ سے اس کاکوئی جواب نہیں آتا۔ بلکہ ایسی ایسی باتیں بتائی گئیں کہ سمجھ میں نہیں آرہاتھاکہ کون سا طوفان آگیاکہ مولاناآزاد انگریزی ماڈل اسکولوں کا رزلٹ بتایانہیں جارہاہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے ڈائرکٹوریٹ کی جانب سے کہاگیاکہ نتائج دکھانے پر عدالت سے پابندی ہے۔ شیموگہ اور دیگر اضلاع میں پتہ کیاگیاتو معلوم ہواکہ وہاں ایسی کوئی پابندی نہیں ہے۔وہاں نتائج بتادئے گئے ہیں۔ خیر خداخدا کرکے آج 15دن بعد بیدر ضلع کے 10مولانا آزاد انگلش میڈیم سرکاری ہائی اسکول کے نتائج بتا دئے گئے ہیں۔ جس کے مطابق مولانا آزاد ماڈل اسکول فیض پورہ بیدر کے نتائج صرف 24%آئے ہیں جو انتہائی شرم کی بات ہے۔25طلبہ نے امتحان دیاتھا۔ 19فیل ہوگئے۔ صرف 6طلبہ کامیاب ہوئے ہیں۔ان کامیاب طلبہ میں کوئی بھی درجہ اول سے کامیاب نہ ہوسکا۔ محکمہ اقلیتی بہبود اور حکومت کرناٹک کے لئے یہ نتائج کس طرح قابل قبول ہوسکتے ہیں؟اسی طرح چٹگوپہ میں واقع مولانا آزادماڈل انگلش میڈیم سرکاری اسکول کے نتائج صرف 36.67%آئے ہیں۔30طلبہ نے امتحان لکھاتھا جس میں سے 19فیل ہوگئے ۔ 11کامیاب ہوگئے۔ ان 11میں سے کوئی درجہ ء اول میں کامیاب نہ ہوسکا۔ایسے نتائج کو کوئی بھی انسان پسند نہیں کرے گا۔ جو بھی سنے گاوہ یہی کہے گاکہ مولانا آزاد سرکاری اسکولوں میں بچوں کاداخلہ دراصل طلبہ کے مستقبل سے کھیلناہے۔ بیدر کے منیارتعلیم میںواقع مولانا آزاد ماڈل اسکول کا نتیجہ 38.24%ہے۔ 34طلبہ نے امتحان دیاتھا۔ 21طلبہ فیل ہوگئے۔اسی طرح مولانا آزاد ماڈل انگریزی اسکول مستعیدپورہ بیدر کے نتائج 45.71%ہیں۔ 35نے امتحان لکھا 19فیل ہوگئے ۔ 16کامیاب ۔ بگدل میں واقع مولانا آزاد انگریزی ماڈل اسکول سے 37طلبہ نے امتحان دیا۔ وہاں پربھی 19فیل ہوئے اور 18کامیاب ہوئے۔ کامیابی کافیصد 48.65% بتایاگیاہے۔ ضلع کے جملہ 10مولانا آزاد انگریزی ماڈل سرکاری اسکولوں میں سب سے زیادہ نتائج 61.54%صرف ہمناآبادکے مولاناآزاد انگریزی سرکاری اسکول نے دئے ہیں۔ کہاجاسکتاہے کہ ریاست بھرکے اضلاع میں بید رضلع کونیچے سے تیسرامقام (57.52%فیصد)دِلانے میںبیدر کے 10 مولانا آزاد ماڈل انگریزی میڈیم سرکاری اسکولوں کابڑا ہاتھ ہے۔اور یہ نتائج بیدر ضلع کے دونوں وزراء ضلع انچارج وزیر ایشورکھنڈرے اور وزیر بلدیہ وحج جناب ر حیم خان کے لئے لمحہ ء فکریہ ہیں۔ خصوصاً وزیربلدیہ اور حج رحیم خان کو چاہیے کہ بیدر کے مولانا آزاد ماڈل انگریزی اسکولوں پرتوجہ دیں ۔ وہ خود بھی اپنے زمانے کے معروف مشنری اسکول ’’ این ایف انگریزی ہائی اسکول‘‘ سے تعلیم حاصل کرچکے ہیں۔ اس لئے انگریزی اسکولوں سے انہیں محبت بھی ضرورہوگی۔ دوسری جانب ہمیں اولیائے طلبہ سے پوچھنا ہے کہ سرکاری اردو اسکولوں سے طلبہ کو نکال کرسرکاری انگریزی میڈیم مولاناآزاد اسکولوں میں طلبہ کوداخل کرنے سے اولیائے طلبہ کوآیافائدہ ہورہاہے ؟ اگر فائدہ نہیں ہورہاہے، ان کے بچے ناکام ہورہے ہیں (جیساکہ نتیجہ سے ظاہر ہے )تواس سے بہتر ہے کہ اپنے بچوں کو سرکاری انگریزی ہائی اسکول کے بجائے سرکاری اردو ہائی اسکولوں میں ہی بدستور پڑھایاجائے۔ ایساکرنے سے حکومت منع نہیں کرے گی ۔ اردو اور انگریزی میڈیم کے دونوں اسکول سرکارہی کی جانب سے چلائے جاتے ہیں۔ اب اولیائے طلبہ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ کس میڈیم کے اسکول میں بچوں کو پڑھائیںگے۔ مولانا آزادماڈل انگریزی میڈیم سرکاری اسکولوں کے نتائج کامزید تجزیہ کل کیاجائے گااِن شاء اللہ ۔ اسی درمیان ایم ایل سی اروندکمارارلی نے مطالبہ کیاہے کہ جو گیسٹ ٹیچر طلبہ کو پڑھارہے تھے انہیں فوراًTerminate کیاجائے۔آئندہ تعلیمی سال کے لئے دوبارہ کال کرکے بہتراور عمدہ طریقے سے پڑھانے والے دوسرے اساتذہ کوان کی جگہ متعین کریں۔ ورنہ اقلیتی طلبہ کے ساتھ ناانصافی ہوگی ۔ اور حکومتی تعلیمی اداروں پراقلیتوں کاجو وشواس ہے اس وشواس کو ٹھیس پہنچے گی ۔واضح رہے کہ مولاناآزاد ماڈل انگریزی ہائی اسکول کی تمام شاخوں کو اقلیتی بہبود ضلع افسر مسٹر اویناش دیکھتے ہیں اور ان انگریزی ہائی اسکولوں کی ناکامی کی ذمہ داری بھی مبینہ طورپر ان ہی کے سر جاتی ہے۔












