دیوبند ،سماج نیوز سروس: عربی اور اردو زبانوں کے معروف اسکالر مولانا ندیم الواجدی کی آخری تصنیف سیرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اجرا علماء کرام کے ہاتھوں عمل میں آیا۔ رسم اجرا کے بعد علماء کرام اور دیگر مقررین نے مولانا ندیم الواجدی کی تخلیقی وتصنیفی صلاحیتوں ، ان کی شخصیت اور علمی خدمات کا تفصیلی تذکرہ کیا۔ دارالعلوم وقف دیوبند کی اطیب المساجد میں منعقد تقریب رسم اجرا کے دوران دارالعلوم وقف کے مہتمم مولانا سفیان قاسمی ، البرہان اکیڈمی شکاگو امریکہ کے ڈائریکٹر مولانا مفتی یاسر ندیم الواجدی ، دارالعلوم دیوبند کے استاذ مفتی عبدالرزاق ، ندوۃ العلماء لکھنؤ کے استاذ مولانا عتیق بستوی، دارالعلوم وقف کے استاذ مفتی عارف قاسمی ، ادیب و تاریخ داں ڈاکٹر عبید اقبال عاصم کے ہاتھوں سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اجرا عمل میں آیا۔ اس موقع پر ندوۃ العلماء کے استاذ حدیث مولانا عتیق بستوی نے اپنے تأثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولانا ندیم الواجدی کو اللہ نے بے پناہ علمی صلاحیتوں سے نوازا تھا ۔ ان کی خاص بات یہ رہی کہ انہوں نے اپنے تصنیفی کام کا آغاز سیرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا اور اپنی زندگی کی آخری کتاب بھی آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر قلم بند کی۔ اس طرح مولانا مرحوم کی تصنیفی زندگی کی ابتدا سرکار دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم کے تذکرہ سے شروع ہوئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تذکرہ پر ہی زندگی کا خاتمہ ہوا۔ دارالعلوم وقف کے مہتمم مولانا سفیان قاسمی نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ مولانا ندیم الواجدی بہترین صاحب قلم اور تصنیفی صلاحیتوں کے مالک ہونے کے ساتھ وقت کے پابند تھے۔ ان کے ہر کام میں وقت کی پابندی لازوال ہوتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی تحریروں میں ایسا جادو تھا کہ دل دماغ میں ان کا نقش تادیر باقی رہتاتھا ۔البرہان اکیڈمی کے ڈائریکٹر مولانا ندیم الواجدی کے صاحبزادے ڈاکٹر یاسر ندیم نے اپنے والد کی زندگی اور علمی تصنیفی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ انہوںنے اپنی پوری زندگی علمی ،دینی اور سیرت سے متعلق تحریریں مرتب کرنے پر صرف کردیں اور مختلف عنوانات سے تقریباً 50کتابیں لکھیں۔ جن سے آج ہماری نوجوان نسل فیضیاب ہورہی ہیں۔ ان کے علاوہ ڈاکٹر عبید اقبال عاصم ، مفتی عارف قاسمی ودیگر مقررین نے بھی مولانا مرحوم کی علمی وتصنیفی خدمات کی تفصیلات بیان کیں ۔












