ناظم منصوری
مرادآباد ، 24 جنوری،سماج نیوز سروس: مورخہ ۲۳ جنوری ۲۰۲۶ بروز جمعہ بعد نماز عشاء شہر مرادآباد کی جامع مسجد میں دینی تعلیمی بورڈ امارت شرعیہ جمعیت علماء شہر مرادآباد کے تحت چلنے والے دینی رہنمائی و اصلاح معاشرہ مہم پروگرام کے اختتام پر دینی رہنمائی و اصلاح معاشرہ کانفرنس کے عنوان پر ایک عظیم الشان اجلاس عام منعقد ہوا جس کی سرپرستی جناب حکیم سید معصوم علی آزاد امام شہر و نگرانی جناب قاری ابراہیم صاحب امام جامع مسجد مرادآباد نے فرمائی، جبکہ پروگرام کی صدارت مولانا محمد طاہر قاسمی صدر جمعیت علماء شہر مرادآباد اور نظامت مولانا مزمل حسین صاحب ناظم اعلی جمیعت علماء شہر مرادآباد نے کی۔ ناظم جلسہ کے افتتاحی اور تعارفی خطبہ کے بعد قاری محمد اعظم صاحب استاذ جامعہ قاسمیہ مدرسہ شاہی کی تلاوت اور مولوی یحیی عبداللہ متعلم مدرسہ شاہی کی نعت پاک سے پروگرام کا آغاز ہوا۔ بعد ازاں مفتی ابوبکر صدیق منصورپوری صاحب دینی رہنمائی و اصلاح معاشرہ پروگراموں کی نوعیت اور طریقہ کار و ضرورت و افادیت کے حوالہ سے اپنے خطاب میں فرمایا کہ ہم نے اپنے رفقاء کے ساتھ شہر کی ۵۰ مساجد میں دینی رہنمائی پروگرام کئے جس سے تجربہ ہوا کہ عوام میں اس نوعیت کی محنت کی بہت ضرورت ہے، جو لوگ اپنی مصروفیات یا غفلت کی وجہ سے دین کے ضروری مسائل سے ناواقف رہ گئے ہیں وہ اس طرح کے پروگراموں سے فائدہ حاصل کر کے اپنی عبادات اور معاملات کے طریقوں کو شریعت کے مطابق کر سکتے ہیں ائمہ حضرات اور ذمہ داران مساجد اپنی اپنی مسجدوں میں تفسیری حلقوں کے ساتھ ساتھ مسائل کا بھی حلقہ لگائیں نماز کے مسائل پاکی ناپاکی کے مسائل زکوٰۃ کے جنازہ وغیرہ کے مسائل سے لوگوں کو آگاہ کریں سوشل میڈیا کے اس دور میں دین کی صحیح سمجھ بوجھ کے لیے عوام کو اپنے علماء اور مفتیان سے دینی مسائل پوچھنے کا اہتمام کرنا چاہیے مفتی صاحب نے اس موقع پر اپنے رفقاء کار اور معاونین کا بھی شکریہ ادا کیا۔ اور دینی رہنمائی پروگراموں کی کارگزاری کتابچہ کی شکل میں پیش کی گئی مفتی ابوبکر صدیق صاحب نے مزید فرمایا ہم نے آج کے اس پروگرام کے مہمان خصوصی کے طور پر اپنے نانا جان امیر ملت اسلامیہ ہند حضرت مولانا سید ارشد مدنی صاحب صدر جمعیت علماء ہند و صدر المدرسين و استاذ حدیث دارالعلوم دیوبند دامت برکاتہم عالیہ کو اس امید کے ساتھ دعوت دی ہے کہ حضرت نے جس طرح ہمیں بچپن میں انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا تھا اب بھی اور آئندہ بھی اسی طرح رہنمائی فرماتے رہیں گے۔ کمزوری اور ضعف کے باوجود اتنا لمبا سفر کرکے حضرت امیر الہند دامت برکاتہم العالیہ کی تشریف آوری سارے اہل مرادآباد کے لیے عزت افزائی اور وقار میں اضافے کا ذریعہ بنا اس کے بعد دعائیہ کلمات کہتے ہوئے حضرت کو دعوت خطاب دیا چنانچہ خطبہ میں حضرت صدر محترم نے فرمایا کہ پروگرام کی جو نوعیت بیان کی گئی اس کے بارے میں پہلے سے واقف نہیں تھا البتہ دینی رہنمائی کے حوالے سے جس مہم کا ذکر کیا گیا وہ بہت ضروری ہے اور عند اللہ مواخذہ اور عذاب الہی سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ دینی مسائل اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے پیغام کو لے کر مساجد کے ساتھ لوگوں کے دروازوں اور آبادیوں کو گلی کوچوں تک پہنچایا جائے امت میں دینی بے راہ روی آزاد مزاجی و ہوا پرسی کا جو رجحان بڑھ رہا ہے۔ اس کو بدلنے کے لئے بے طلب ہو کر بے غرض لوگوں تک پہنچ کر دین کی طرف لانا ہوگا، اگر یہ نا ہوا تو جو حالات ہیں وہ سب کے سامنے ہیں۔












