منہاج احمد
نئی دہلی 16نومبر،سماج نیوز سروس: کارپوریشن لاوارث کتوں کے لیے جلد ہی پانچ نئے نس بندی سینٹرکھولے گی۔ اس سے سڑکوں پر گھومنے والے کتوں کی آبادی کو قدرتی طور پر کم کرنا آسان ہو جائے گا۔ اس وقت دہلی میں 16 نس بندی سینٹر چل رہے ہیں۔ جلد ہی ان کی تعداد 21 ہو جائے گی۔دہلی میونسپل کارپوریشن این جی اوز جانوروں کی فلاحی تنظیموں کی مدد سے دہلی میں اپنے نس بندی سینٹرچلا رہی ہے۔ یہ تنظیمیں آوارہ کتوں کو پکڑ کر بانجھ کر دیتی ہیں اور پھر پکڑے جانے کی جگہ پر چھوڑ دیتی ہیں۔اس وقت دہلی میں دوارکا سیکٹر-29، عثمان پور، روہنی سیکٹر-27، مسعود پور، تیمار پور، یس ڈومیسٹک ریسرچ سنٹر بیلہ روڈ، لاجپت نگر، تلنگ پور کوٹلہ، غازی پور، بجواسن، سینک انکلیو، نانگلی، کرشنا آشرم ستباری، مسعود پور، راجوکری، راجہ گارڈن میں لاوارث کتوں کی نس بندی کے مراکز چلائے جا رہے ہیں۔ان میں سے کچھ این جی اوز چلاتے ہیں اور کچھ نجی ویٹرنری ڈاکٹر چلاتے ہیں۔ اگلے دو ماہ کے اندر، کارپوریشن منڈھیلا، تغلق آباد، پرہلاد پور، دوارکا سیکٹر-29 اور روہنی سیکٹر-27 میں بند سرکاری ویٹرنری اسپتالوں اور نس بندی مراکز کو چالو کے لیے غیر سرکاری جانوروں کی فلاحی تنظیموں کے حوالے کرنے جا رہی ہے۔ایم سی ڈی نے رواں مالی سال 2023-24 میں تقریباً 80 ہزار کتوں کی نس بندی کا ہدف مقرر کیا ہے۔ ایم سی ڈی کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق اپریل 2022 سے اس سال مارچ تک 58716 لاوارث کتوں کی نس بندی کی گئی ہے۔ اس سے قبل اپریل 2021 سے مارچ 2022 تک 83461 بے سہارا کتوں کی نس بندی کی جا چکی ہے۔این جی اوز کی جانب سے کتے کو پکڑنے، بانجھ کرنے اور پکڑے جانے کی جگہ پر چھوڑنے کے بعد، کارپوریشن فی کتا 1000 روپے ادا کیے جاتے ہیں۔ کارپوریشن ایم سی ڈی کے عملے کے ہاتھوں پکڑے گئے کتوں کی نس بندی کے لیے این جی اوز کو 900 روپے ادا کرتی ہے۔












