نئی دہلی، (یو این آئی) کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ جس کتاب کے اقتباسات پڑھنے سے انہیں پارلیمنٹ میں یہ کہہ کر روکا جا رہا ہے کہ یہ کتاب چھپی ہی نہیں ہے، آج وہ کتاب ان کے ہاتھ میں ہے اور وہ اسے وزیراعظم نریندر مودی کو تحفے میں دینا چاہیں گے۔ کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے پارلیمنٹ ہاؤس کمپلیکس میں لوک سبھا سے معطل آٹھ کانگریس ارکانِ پارلیمنٹ کے پارلیمنٹ ہاؤس کے مکر دوار پر دھرنے پر بیٹھنے کے بعد بدھ کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جس کتاب میں لکھے گئے حصوں کا وہ لوک سبھا میں صدر کے خطاب پر شکریہ کی تحریک کے دوران ذکر کرنا چاہتے ہیں، حکومت کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ یہ حقائق غیر مستند ہیں اور کتاب شائع ہی نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے صحافیوں کو کتاب کی کاپی دکھاتے ہوئے سوال کیا کہ کس بنیاد پر حکومت کے سینئر وزراء کہہ رہے ہیں کہ کتاب چھپی ہی نہیں ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا ایکس پر بھی اس حوالے سے ایک پوسٹ میں کہا، آج اگر وزیراعظم پارلیمنٹ میں آتے ہیں، تو میں انہیں ایک کتاب تحفے میں دوں گا۔ یہ کتاب کسی اپوزیشن لیڈر کی نہیں ہے۔ یہ کتاب کسی غیر ملکی مصنف کی نہیں ہے۔ یہ کتاب ملک کے سابق آرمی چیف جنرل نروانے کی ہے – اور حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ کتاب کابینی وزراء کے مطابق وجود ہی نہیں رکھتی۔ مسٹر گاندھی نے کہا کہ اس کتاب میں صاف لکھا ہے کہ جب چینی فوج ہماری سرحد میں داخل ہو گئی تھی، ایسی نازک گھڑی میں آرمی چیف کو انتظار کروایا گیا اور جب فیصلہ لینے کا وقت آیا، تو وزیراعظم نے بس اتنا کہا – جو آپ کو مناسب لگے، وہ کیجیے۔ یعنی ملک کی سلامتی کے سنگین ترین بحران میں، مسٹر مودی نے سیاسی ذمہ داری سے ہاتھ کھڑے کر لیے۔ انہوں نے کہا کہ جنرل نروانے خود لکھتے ہیں کہ اس وقت انہیں محسوس ہوا کہ سیاسی قیادت نے فوج کو اکیلا چھوڑ دیا۔ یہی وہ سچائی ہے جسے بولنے سے انہیں پارلیمنٹ میں روکا جا رہا ہے۔ ملک سوال پوچھ رہا ہے اور حکومت جواب دینے سے بھاگ رہی ہے۔ کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے بھی بعد میں راہل گاندھی کے ہاتھ میں موجود شائع شدہ کتاب کی تصویر پوسٹ کرتے ہوئے سوشل میڈیا ایکس پر کہا، یہ سابق فوجی چیف نروانے جی کی کتاب ہے۔ حکومت کہہ رہی ہے کہ یہ کتاب ہے ہی نہیں اور آپ اس کا حوالہ نہیں دے سکتے۔ اس میں نروانے جی نے لکھا ہے کہ لداخ میں چین کی فوج ہمارے علاقے میں داخل ہو رہی تھی۔فوجی چیف نے راج ناتھ جی سے پوچھا کہ کیا کرنا ہے۔ پہلے کوئی جواب نہیں دیا۔ بار بار فون کرنے پر نریندر مودی جی نے پیغام دیا کہ جو مناسب سمجھو وہ کرو ۔ اس کا مطلب ہے کہ مودی جی نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی۔ مسٹر مودی کی یہ سچائی ملک کو معلوم ہونی چاہیے۔ دریں اثنا کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف، ملکارجن کھڑگے نے بدھ کے روز مودی حکومت اور آر ایس ایس پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ملک کی پارلیمانی جمہوریت، سماجی انصاف اور آئینی ڈھانچے کو منظم طریقے سے کمزور کیا جا رہا ہے۔ بجٹ اجلاس کے دوران صدرجمہوریہ کے خطاب پر شکریہ کی تحریک پر بحث کے دوران ، ملک ارجن کھڑگے نے کہا کہ اس خطاب میں غریبوں، خواتین، اقلیتوں اور پسماندہ طبقات پر کوئی معنی خیز توجہ نہیں دی گئی ہے۔مسٹر کھڑگے نے کہا، پارلیمانی جمہوریت خطرے میں ہے، ۔ انہوں نے کہا کہ وہ ریکارڈ پر پانچ نکات رکھنا چاہتے ہیں، جس کا آغاز اس مطالبے سے ہوا کہ خواتین کے ریزرویشن بل کو فوری طور پر نافذ کیا جائے۔ انہوں نے الزام لگایا، بی جے پی کے لیے خواتین صرف ایک ووٹ بینک ہیں۔ آپ نے آج تک کسی ایک خاتون کو اپنی پارٹی کا صدر نہیں بنایا، انہوں نے مزید کہا کہ ملک بھر میں خواتین کے خلاف مظالم بڑھ رہے ہیں۔ کھڑگے نے حکومت پر دہائیوں سے بنائے گئے سماجی انصاف کے طریقہ کار کو کمزور کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے اپنے دعوؤں کی حمایت میں ڈیٹا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، کانگریس حکومتوں نے ایس سی اور ایس ٹی کے لیے اسکیموں کو مضبوط کیا۔ اس حکومت نے انہیں کمزور کر دیا ہے۔ مختص کردہ فنڈز کم کر دیے گئے ہیں اور وہ رقم بھی پوری طرح خرچ نہیں کی جاتی۔ صدر جمہوریہ کے خطاب کو نشانہ بناتے ہوئے، مسٹر کھڑگے نے کہا کہ یہ زمینی حقائق کے بجائے حکومت کی ترجیحات کی عکاسی کرتا ہے۔












