بہارشریف (ایم ایم عالم) چیترا نوراتری تہوار کے آخری منگل کے روز نالندہ ضلع ہیڈکوارٹر بہارشریف میونسپل کارپوریشن حلقہ کے مگھڑا میں واقع ماں شیتلا مندر میں بھگدڑ مچ گئی،جس کے نتیجے میں آٹھ افراد کی موت ہو گئی اور آٹھ دیگر زخمی ہو گئے۔ زخمیوں میں سے چار کا ماڈل ہسپتال بہارشریف میں علاج کیا جا رہا ہے جبکہ تین کی حالت تشویشناک ہے اور انہیں پٹنہ ریفر کر دیا گیا ہے۔کچھ کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ہے۔واقعے کے بعد وزیر شرون کمار اور رکن پارلیمان کوشلندر کمار نے ماڈل صدر ہسپتال کا دورہ کرکے زخمیوں سے ملاقات کی۔ وزیر شرون کمار نے اس واقعہ پر اپنے گہرے دکھ کا اظہار کیا اور مرحوم کی روح کے سکون کے لئے دعا کی۔انہوں نے مزید کہا کہ انتظامیہ اور مندر کمیٹیوں کو تمام مذہبی مقامات پر بہتر انتظامات کو یقینی بنانا چاہیے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ہو سکے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ تحقیقاتی رپورٹ آنے کے بعد ہی کچھ ٹھوس کہا جائے گا۔اس دوران عینی شاہد پنکج کمار نے بتایا کہ ہر سال کی طرح اس سال بھی وہ پوجا کے لیے آئے تھے،لیکن انتظامات سست اور ندارت تھے۔انہوں نے الزام لگایا کہ لوگوں کو مندر میں فیس کے عوض درشن دیا جا رہا تھا جس سے بھیڑ بڑھ گئی اور بھگدڑ مچ گئی۔اس واقعے میں وہ اور اس کی بہن زخمی ہو گئے۔الجرات ساکشی کی ماں سیلن کماری نے بھی الزام لگایا کہ یہ حادثہ مندر کے اندر بہت زیادہ ہجوم اور افراتفری کی وجہ سے پیش آیا۔اس نے کہا کہ پانڈا لوگوں کو اندر جانے کی اجازت دینے کے لیے پیسے لے رہے تھے،جس کی وجہ سے اچانک خوف و ہراس پھیل گیا اور بہت سے لوگ کچلے گئے۔پولیس نے تمام لاشوں کو قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے بعد ورثاء کے حوالے کر دیا ہے۔ریاستی حکومت نے فوری طور پر مرنے والوں کے لواحقین کو 6 لاکھ روپے کا معاوضہ فراہم کیا ہے۔واقعہ کے بعد علاقے میں غم و غصے کی فضا پھیل گئی ہے۔اس موقع پر بہارشریف کے میئر انیتا دیوی،سابق ڈپٹی میئر ندیم جعفر عرف گلریز انصاری،جے ڈی یو کے ضلع صدر محمد ارشد،ضلع ترجمان دھننجے دیو کمار،بھوانی سنگھ،سنجے پاسوان،کانگرس کے سابق ضلع صدر دلیپ کمار،آر جے ڈی کے ترجمان دیپک سنگھ،پپو یادو کے علاوہ درجنوں سیاسی اور سماجی رہنماؤں وغیرہ صدر ہسپتال میں موجود تھے۔












