نئی دہلی،سماج نیوز سروس:دہلی اسمبلی کے اسپیکر وجیندر گپتا نے آج دہلی اسمبلی کے احاطے میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا، پنجاب کے ڈی جی پی، جالندھر پولیس کمشنر، اور خصوصی ڈی جی پی سائبر سیل کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں، اور ان سے 48 گھنٹوں کے اندر تحریری وضاحتیں اور تمام متعلقہ دستاویزات پیش کرنے کو کہا گیا ہے۔گپتا نے پریس کانفرنس میں مزید کہا کہ دہلی اسمبلی سکریٹریٹ نے جالندھر میں درج ایف آئی آر کے بارے میں ایک باضابطہ نوٹس جاری کیا ہے، جس کا تعلق اسمبلی کی کارروائی کے مبینہ ویڈیو کلپ سے ہے۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ایوان کو اس معاملے کا پہلے سے علم ہے، اور ویڈیو کلپ کو کمیٹی برائے فرانزک انویسٹی گیشن اور استحقاق کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ نوٹس میں پنجاب پولیس کے معاملے میں ملوث ہونے پر معزز سپیکر کی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور متعلقہ حکام سے تفصیلی وضاحت اور ضروری دستاویزات طلب کی گئی ہیں۔اسمبلی کے سپیکر نے کہا کہ یہ معاملہ انتہائی سنگین آئینی اہمیت کا حامل ہے اور اس کا براہ راست تعلق ایوان کے وقار، حقوق اور مراعات سے ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ مسئلہ کسی فرد یا سیاسی جماعت تک محدود نہیں ہے۔گپتا نے کہا کہ جس ویڈیو کی بنیاد پر ایف آئی آر درج کی گئی ہے وہ ذاتی ریکارڈنگ نہیں ہے بلکہ ایوان کی سرکاری ریکارڈنگ ہے، جو دہلی قانون ساز اسمبلی کی واحد ملکیت ہے۔ ایوان کی جائیداد کا یہ غلط استعمال اور اس بنیاد پر ایک وزیر کے خلاف ایف آئی آر درج کرنا نہ صرف افسوس ناک ہے بلکہ انتہائی سنگین اور قابل مذمت بھی ہے۔سپیکر نے واضح کیا کہ ایوان کی کارروائی کی کوئی بھی ریکارڈنگ ایوان کی واحد ملکیت ہے نہ کہ کسی سیاسی جماعت، فرد یا بیرونی ایجنسی کی۔ انہوں نے اس اختیار اور بنیاد پر سوال اٹھایا جس کی بنیاد پر یہ ایف آئی آر درج کی گئی۔وجیندر گپتا نے کہا کہ اس پورے واقعہ میں جالندھر پولیس کمشنر کا کردار انتہائی تشویشناک ہے اور ایسا لگتا ہے کہ پہلی نظر میں یہ ایوان کے مراعات کی خلاف ورزی ہے۔ لہٰذا، ان کے خلاف استحقاق کی خلاف ورزی کا واضح مقدمہ بنایا جاتا ہے، جسے ایوان سنجیدگی سے لے گا۔سپیکر نے مزید کہا کہ ویڈیو کلپ اپوزیشن کی درخواست پر فرانزک سائنس لیب کو بھیجا گیا اور مکمل شفافیت اور غیر جانبداری کو یقینی بنایا گیا۔ تاہم ایوان کی سرکاری ریکارڈنگ کو ’’ڈاکٹرڈ‘‘ قرار دینا بذات خود ایوان کے وقار پر حملہ ہے۔گپتا نے کہا کہ یہ محض جھوٹا الزام نہیں ہے بلکہ یہ ایک سوچی سمجھی سازش معلوم ہوتی ہے جس کا مقصد ایوان کی ساکھ کو داغدار کرنا اور آئینی اداروں کو بدنام کرنا ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ اس سازش میں بالواسطہ یا بلاواسطہ ملوث پائے جانے والے تمام افراد کو ایوان کی سخت ترین کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔












