مظفرپور:یکم؍اپریل(پریس ریلیز)بہار قانون ساز کونسل کے رکن اور راشٹریہ جنتادل کے سینئر رہنما قاری صہیب نے مولانا عبد اللہ سالم چترویدی کی گرفتاری پر شدید ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے اسے جمہوریت، آئین اور بنیادی انسانی حقوق کے خلاف سنگین اقدام قرار دیا ہے۔ اپنے پریس بیان میں انہوں نے کہا کہ جس انداز میں یوپی ایس ٹی ایف نے بہار کے ضلع پورنیہ کے ایک گاؤں سے مولانا کو گرفتار کیا ، وہ نہ صرف قانونی ضابطوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس سے عوام کے اندر خوف و ہراس پیدا کرنے کی کوشش بھی جھلکتی ہے۔قاری صہیب نے کہا کہ ابتدائی طور پر اغوا کی افواہوں کا پھیلنا اس بات کی علامت ہے کہ کارروائی شفاف اور قانونی طریقے سے نہیں کی گئی۔ انہوں نے اس امر پر بھی گہری تشویش ظاہر کی کہ ایک مذہبی و سماجی شخصیت کو ایک ایسے بیان کی بنیاد پر نشانہ بناتے ہوئے ان کے ساتھ مبینہ طور پر سختی اور تشدد برتا گیا،ایک پرانے ویڈیو میں شرپسند ٹی وی چینلوں کے ذریعہ فرقہ واریت کا زہر پھیلانے کے بعد یوپی میں مولانا عبداللہ سالم کے خلاف درجنوں کیس درج کروائے گئے اور پھر یوپی ایس ٹی ایف کے ذریعے انہیں گرفتار کروایا گیا جبکہ مولانا اس سلسلے میں وضاحت پیش کرتےہوئے معافی مانگ چکے تھے پھر بھی انہیں گرفتار کرکےجیل بھیج دیا گیا ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ اتر پردیش میں حکومت کی سرپرستی میں اختلافی آوازوں کو دبانے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے، جو جمہوری نظام کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ اظہارِ رائے کی آزادی ہر شہری کا بنیادی حق ہے، اور اس حق کو طاقت کے زور پر سلب کرنا آئین کی روح کے منافی ہے۔قاری صہیب نے سخت الفاظ میں کہا کہ مولانا عبد اللہ سالم چترویدی کے ساتھ جو سلوک کیا گیا، وہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ایک مخصوص طبقے کو اس کے مذہب اور شناخت کی بنیاد پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی فرد مسلمان اور عالمِ دین ہونے کی وجہ سے امتیازی سلوک اور مبینہ تشدد کا شکار بنتا ہے، تو یہ نہ صرف انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ آئینِ ہند کے اس بنیادی اصول کے بھی منافی ہے جو تمام شہریوں کو برابری کا حق دیتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس طرح کے اقدامات ملک کے سیکولر ڈھانچے کو کمزور کرتے ہیں اور سماجی ہم آہنگی کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔انہوں نے یوپی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایک طرف تو اختلافی آوازوں کو طاقت کے زور پر دبایا جا رہا ہے، جبکہ دوسری طرف بعض عناصر کو کھلے عام نفرت انگیز تقاریر اور فرقہ وارانہ ماحول بنانے کی چھوٹ دی جا رہی ہے۔ قاری صہیب نے کہا کہ یہ دوہرا معیار جمہوریت کے لیے زہرِ قاتل ہے، کیونکہ اس سے قانون کی غیر جانبداری ختم ہوتی ہے اور عوام کا انصاف کے نظام پر اعتماد متزلزل ہوتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ قانون سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے، چاہے وہ کسی بھی مذہب یا طبقے سے تعلق رکھتا ہو۔قاری صہیب نے کہا کہ ملک کی جمہوری بنیادیں اسی وقت مضبوط رہ سکتی ہیں جب آئین کی پاسداری ہر حال میں یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومتیں اپنے سیاسی مفادات کے تحت کسی ایک طبقے کو نشانہ بنائیں اور دوسرے کو تحفظ فراہم کریں، تو یہ نہ صرف آئین کی روح کے خلاف ہے بلکہ ملک کے اتحاد اور سالمیت کے لیے بھی سنگین خطرہ ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایسے رجحانات کو فوری طور پر روکنا ضروری ہے، ورنہ اس کے دور رس نتائج پورے ملک کو عدم استحکام کی طرف لے جا سکتے ہیں۔قاری صہیب نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائے، مولانا عبد اللہ سالم چترویدی کے ساتھ کسی بھی قسم کے ناروا سلوک کی فوری جانچ ہو، اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔آخر میں انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ مولانا کو بلا تاخیر رہا کیا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ملک میں قانون کی حکمرانی برقرار رہے، نہ کہ سیاسی دباؤ کے تحت انصاف کا گلا گھونٹا جائے۔












