کانپور، سماج نیوز سروس: ہریانہ کے ضلع پلوَل میں پیش آنے والے دلدوز ماب لنچنگ (ہجومی تشدد) کیس میں پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ کی جانب سے نامزد ملزم نربیر عرف نرویر کی ضمانت کی عرضی مسترد کیے جانے کا جمعیۃ علماء اترپردیش نے خیرمقدم کیا ہے۔ اس اہم عدالتی پیش رفت پر اپنے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے جمعیۃ علماء اترپردیش کے ناظم اعلیٰ مولانا امین الحق عبداللہ قاسمی نے کہا کہ یہ فیصلہ جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدر حضرت مولانا محمود اسعد مدنی مدظلہ کی دور اندیش قیادت اور مظلوموں کو انصاف دلانے کے لیے جاری طویل و صبر آزما قانونی جدوجہد کا ایک اور شاندار نتیجہ ہے۔ واضح رہے کہ 24 جنوری 2025 کو پلوَل کے گاؤں اورنگ آباد میں دو گائے اور ایک بچھڑے کو منی ٹرک میں لے جانے کے دوران ایک بے قابو ہجوم نے ٹرک ڈرائیور روی اور یوسف کو گھیر کر بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا تھا، جس کے نتیجے میں یوسف موقع پر ہی شہید ہو گئے تھے۔ اس واقعے پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے مولانا امین الحق عبداللہ قاسمی نے کہا کہ ماب لنچنگ جیسے درندگی بھرے واقعات ملک کے جمہوری اور آئینی ڈھانچے پر سیدھا حملہ ہیں، اور ایسے عناصر کو قانون کے شکنجے میں لانا ملک میں امن و امان کی بالادستی کے لیے انتہائی ناگزیر ہے۔ ناظم اعلیٰ جمعیۃ علماء یوپی نے ہائی کورٹ میں ملزم کی ضمانت کی مخالفت کرنے والی جمعیۃ کی مقرر کردہ سینئر وکیل ایڈوکیٹ روزی خاں کے مضبوط اور مدلل دفاع کی بھرپور ستائش کی۔ انہوں نے بتایا کہ عدالتِ عالیہ کے جج جسٹس سوریہ پرتاپ سنگھ نے سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد کی روشنی میں جرم کی سنگینی کو تسلیم کرتے ہوئے ضمانت خارج کی ہے، جو کہ مظلوم خاندان کے لیے انصاف کی ایک بڑی کرن ہے۔ مولانا قاسمی نے مقدمے کی اعلیٰ سطحی نگرانی کرنے والے جمعیۃ علماء ہند کے قانونی امور کے نگراں ایڈوکیٹ مولانا نیاز احمد فاروقی اور پلوَل سیشن کورٹ میں مسلسل پیروی کرنے والے ایڈوکیٹ ایشور سنگھ سورین کی محنتوں کو بھی سراہا۔ انہوں نے اس بات پر بھی فخر کا اظہار کیا کہ سانحہ کے فوراً بعد جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمد حکیم الدین قاسمی اور ریاستی جمعیۃ کے ناظم اعلیٰ مولانا یحیٰ کریمی نے اہل خانہ سے ملاقات کر کے انہیں تنہا نہ چھوڑنے کا جو وعدہ کیا تھا، جمعیۃ آج اس پر پوری طرح قائم ہے اور اسی عزم کے تحت تمام نو ملزمان اس وقت سلاخوں کے پیچھے عدالتی حراست میں ہیں۔ مولانا امین الحق عبداللہ قاسمی نے اس عزم کو دہرایا کہ جمعیۃ علماء ہند ہمیشہ سے مظلوموں کی توانا آواز رہی ہے۔ جب تک یوسف شہید کے ورثاء اور متاثرہ ڈرائیور کو مکمل انصاف نہیں مل جاتا اور ان غنڈہ عناصر کو ان کے کیے کی کڑی سزا نہیں مل جاتی، تنظیم کی یہ قانونی اور اخلاقی لڑائی پوری قوت اور ثابت قدمی کے ساتھ جاری رہے گی۔












