نئی دہلی، 18 فروری (یو این آئی) کانگریس نے وزیرِاعظم نریندر مودی پر براہِ راست حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسٹر مودی اور بھارتیہ جنتا پارٹی سچ سے بہت ڈرتے ہیں، اسی لیے ان کی حقیقت ظاہر کرنے والی کئی اے آئی ویڈیوز سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے ہٹا دی گئی ہیں۔کانگریس کی ترجمان سپریا شرینیت نے جمعرات کے روز یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ مسٹر مودی اے آئی پر بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں، لیکن دراصل وہ مصنوعی ذہانت سے کانپتے ہیں۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 6 ہفتوں میں کانگریس کے اے آئی سے بنائے گئے 9 ویڈیوز ملک کے وزیرِاعظم، ان کی قیادت والی مرکزی حکومت اور بی جے پی کی زیرِ اقتدار ریاستی حکومتوں نے حذف کروائے ہیں۔ میں واضح کر دوں کہ یہ تمام ویڈیوز قانون کے تحت بنائے گئے تھے اور ان میں اے آئی کا وضاحتی بیان موجود تھا۔تمام ویڈیوز کی پوری مدت کے دوران اے آئی تخلیق شدہ لکھا تھا، جو ظاہر کرتا ہے کہ ہم نے کسی کو گمراہ کرنے کی کوشش نہیں کی، لیکن بی جے پی اور خود وزیرِاعظم مودی سچ سے اس قدر ڈرتے ہیں کہ وہ سچ کی ڈرامائی پیشکش سے بھی خوفزدہ ہو جاتے ہیں۔ کانگریس کی ترجمان نے کہا کہ اس ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح مسٹر مودی نے جنرل نروانے اور فوج سے یہ کہہ کر ذمہ داری سے کنارہ کشی اختیار کی۔ جو مناسب سمجھو، وہی کرو ۔ کس طرح انہوں نے قومی مفاد کو نظر انداز کرتے ہوئے امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدہ کیا۔ اس میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح مسٹر مودی، ایپسٹین کے مشورے پر امریکہ کے صدر ٹرمپ کو خوش کرنے میں لگ گئے اور پھر امریکہ کے اشارے پر روس سے تیل خریدنا بند کر دیا۔انہوں نے کہا کہ اس ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح مسٹر مودی نے امریکہ کے کسانوں کو فائدہ پہنچایا اور ہندوستان کے کسانوں کے مفاد کی قربانی دے دی اور کس طرح انہوں نے صنعتکار اڈانی پر امریکہ میں کستے قانونی شکنجے سے گھبرا کر ٹرمپ کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ویڈیو میں یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ کس طرح مسٹر مودی تین خاتون ارکانِ پارلیمنٹ سے ڈر کر ایوان چھوڑ کر چلے گئے۔












